SHAWORDS
Kamil Chandpuri

Kamil Chandpuri

Kamil Chandpuri

Kamil Chandpuri

poet
24Ghazal

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

mujhe dekh kar sar-e-raah vo mire saamne se nikal gae

مجھے دیکھ کر سر راہ وہ مرے سامنے سے نکل گئے مجھے منہ دکھا کے چھپا لیا مرے ساتھ چال سی چل گئے مرے دل میں آگ سی لگ گئی مرے اشک آہوں میں ڈھل گئے انہیں کیا غرض کہ مرے کوئی وہ تو مسکرا کے نکل گئے ترا شکریہ غم عاشقی مرے گھر میں ہو گئی روشنی مرا سینہ داغوں سے بھر گیا کہ چراغ کعبے میں جل گئے نہیں مے سے ہم کو کوئی خطر یہ ہمارے دل پہ ہے منحصر کبھی بے پیے ہی بہک گئے کبھی پی کے اور سنبھل گئے تری اک نگاہ نے ساقیا یہ عجیب دور چلا دیا جو سنبھل رہے تھے بہک گئے جو بہک رہے تھے سنبھل گئے وہ نظر سے دور تھے جب تلک بڑا ناز تھا مجھے ضبط پر وہ ملے کہ بس مرے اشک غم انہیں دیکھتے ہی مچل گئے وہی کاملؔ اپنی ہیں زندگی اب انہیں کا ذکر ہے بندگی جو مری حیات میں رچ گئے جو مرے مزاج میں ڈھل گئے

غزل · Ghazal

giraftaar-e-mohabbat huun pareshaani nahin jaati

گرفتار محبت ہوں پریشانی نہیں جاتی لئے پھرتی ہے در در خانہ ویرانی نہیں جاتی کبھی ہر گام پر ہوتا ہے منزل کا گماں مجھ کو کبھی خود منزل مقصود پہچانی نہیں جاتی قفس میں قید ہوں نا قابل پرواز بے پر ہوں مگر صیاد کی اب بھی نگہبانی نہیں جاتی یہ کون آیا بوقت نزع اے دل میری بالیں پر نظر تو آ رہا ہے شکل پہچانی نہیں جاتی لحد میں جا کے بھی گننا پڑیں گے دن قیامت کے فنا ہو کر بھی کاملؔ فکر انسانی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

pareshaan zulf ho yaa aankh nam dekhi nahin jaati

پریشاں زلف ہو یا آنکھ نم دیکھی نہیں جاتی اب ان آنکھوں سے تصویر الم دیکھی نہیں جاتی ندامت اس حسیں چہرے پہ یارب کیا قیامت ہے رخ معصوم پر تحریر غم دیکھی نہیں جاتی ابھی تک پھر رہی ہیں ان کی آنکھیں میری آنکھوں میں کوئی شے اب ان آنکھوں کی قسم دیکھی نہیں جاتی ہزاروں محفلیں قربان تجھ پر شام مے خانہ مگر رندوں کی حالت صبح دم دیکھی نہیں جاتی بتوں میں دیکھتے ہیں جلوۂ حق اہل دل لیکن خرد والوں سے توقیر صنم دیکھی نہیں جاتی کسی کا دامن امید پر کوئی تہی دامن کرم والے تری شان کرم دیکھی نہیں جاتی وہ چوکھٹ ہو حرم کی یا در بت خانہ ہو کاملؔ کہیں ہم سے جبین حسن خم دیکھی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

jab bhi mai-khaane se pi kar ham chale

جب بھی مے خانے سے پی کر ہم چلے ساتھ لے کر سینکڑوں عالم چلے تھک گئے تھے زندگی کی راہ میں ہو کے مے خانے سے تازہ دم چلے جتنے غم ظالم زمانے نے دئے دفن کر کے مے کدے میں ہم چلے راستے میں سینکڑوں غم مل گئے کل جو مے خانے سے بچ کر ہم چلے پینے والو موسموں کی قید کیا آج تک اک دور بے موسم چلے بعد مدت کے ملے ہیں آج وہ گردش دوراں ذرا مدھم چلے آج زاہد کو پلا مے ساقیا اور رندوں کے لئے زمزم چلے زندگی کے رخ پہ سرخی آ گئی جب حرم سے مے کدے کو ہم چلے اس حسیں رخسار پر اشک رواں گل پہ جیسے قطرۂ شبنم چلے اب تو بزم مہ وشاں سے جائیے آپ تو کاملؔ یہیں پر جم چلے

غزل · Ghazal

na aankhon se na paimaanon se piinaa

نہ آنکھوں سے نہ پیمانوں سے پینا کٹے گا کیسے ساون کا مہینہ جو ملتے تھے کبھی سینہ بہ سینہ وہی رکھتے ہیں اب سینے میں کینہ بھری بیٹھی ہے غصے میں حسینہ چھلک آیا ہے ماتھے پر پسینہ یہ نقطہ عارض گلگوں پہ تل کا جڑا ہے خود مشیت نے نگینہ مسرت سے بھی آ جاتے ہیں آنسو بہت نازک ہے دل کا آبگینہ

غزل · Ghazal

ab naqaab-e-rukh-e-zebaa nahin dekhaa jaataa

اب نقاب رخ زیبا نہیں دیکھا جاتا چاند ہم سے پس پردہ نہیں دیکھا جاتا اب تو للہ الٹ دو رخ روشن سے نقاب ہم سے محفل میں اندھیرا نہیں دیکھا جاتا ان کے حصے کے جو غم ہیں مجھے دے دے یارب ان کا اترا ہوا چہرہ نہیں دیکھا جاتا ہائے ان نرگسی آنکھوں میں چھلکتے آنسو کیسے دیکھوں یہ نظارہ نہیں دیکھا جاتا دیکھنے کی بھی تمنا ہے ان آنکھوں کو مگر سامنے آئیں تو جلوہ نہیں دیکھا جاتا تم ملو غیر سے اور وہ تمہیں ہنس کر دیکھے کیسا پتھر ہو کلیجہ نہیں دیکھا جاتا اب تمہیں موت ہی آ جائے تو بہتر کاملؔ ہم سے یہ حال تمہارا نہیں دیکھا جاتا

Similar Poets