Kamil Nizami
Kamil Nizami
Kamil Nizami
Ghazalغزل
نشاط و رنج کا رشتہ بھی کتنا محکم ہے ہر اک الم ہے مسرت ہر اک خوشی غم ہے کسی سے ربط محبت کوئی گناہ نہیں ازل سے عشق شریک سرشت آدم ہے مری نگاہ میں وہ ہیں بہار کے آنسو سمجھ رہا ہے زمانہ جنہیں کہ شبنم ہے
nishaat-o-ranj kaa rishta bhi kitnaa mohkam hai
یہاں زباں نہیں کھلتی ہے گفتگو کے لیے یہ خامشی ہے محبت کی آبرو کے لیے نگاہ شوق کی بے تابیاں معاذ اللہ یہ اہتمام ہے تجدید آرزو کے لیے بہار آئی ہے لیکن عجیب عالم ہے ترس رہا ہوں تماشائے رنگ و بو کے لیے تسلیٔ دل صد چاک ہو گئی کاملؔ کسی کا تار نظر مل گیا رفو کے لیے
yahaan zabaan nahin khulti hai guftugu ke liye
ذرا دم لے کہ پوری حسرتیں برق تپاں کر لوں نثار آشیاں ہو لوں طواف آشیاں کر لوں تہیہ ہے کہ شرح حالت سوز نہاں کر لوں شریک غم تجھے اب راز دل کا ترجماں کر لوں نہ ہو بیتاب جلوہ اس قدر اے شوق نظارہ مناسب ہے ابھی ظرف نظر کا امتحاں کر لوں
zaraa dam le ki puuri hasratein barq-e-tapaan kar luun
مبارک طالبان دید وہ ہوتے ہیں بے پردہ بقدر ظرف جلوؤں کا تماشا دیکھتے جاؤ غم امروز کی تاریکیوں سے کھیلنے والو جلاتا ہوں چراغ عیش فردا دیکھتے جاؤ اٹھی ہے اب مشیت غیظ کی طغیانیاں لے کر ابھی کیا ہے ابھی ہوتا ہے کیا کیا دیکھتے جاؤ
mubaarak taalibaan-e-did vo hote hain be-parda
مل بھی جائے گی راحت منحرف زمانے سے سوچنا بھی ہے پہلے آشیاں بنانے سے اس لیے محبت میں راحتوں کا منکر ہوں زندگی نہ مٹ جائے نقش غم مٹانے سے گلستاں میں کیا ڈالیں وہ بنا نشیمن کی لاگ بجلیوں کو ہے جن کے آشیانے سے داغ دل کی افزائش روکش گلستاں ہے ہر بہار شرمندہ اس بہار خانے سے آج بربط دل پر کون یہ غزل خواں ہے زندگیٔ الفت کی نبض ہے ٹھکانے سے مستقل خدا رکھے کاش ان بہاروں کو زندگی مہک اٹھی تیرے مسکرانے سے یہ بچے بھی اے کاملؔ ہیں شریر کس درجہ لے چلے ہیں زاہد کو وعظ کے بہانے سے
mil bhi jaaegi raahat munharif zamaane se
تری نظر کے اشارے اداس رہتے ہیں یہ زندگی کے سہارے اداس رہتے ہیں مجھی سے ہوتی ہے بیدار موج خوابیدہ مرے بغیر کنارے اداس رہتے ہیں ترا جمال رہین نقاب ہے جب سے فلک پہ چاند ستارے اداس رہتے ہیں
tiri nazar ke ishaare udaas rahte hain





