
Kamran Ghani Saba
Kamran Ghani Saba
Kamran Ghani Saba
Ghazalغزل
zindagi kitnaa aazmaaegi
زندگی کتنا آزمائے گی آخرش وہ بھی ہار جائے گی کس قدر پیاس ہے سمندر کو میری تشنہ لبی بتائے گی کیا خبر تھی شب فراق کے بعد زندگی خود بھی روٹھ جائے گی کیا ہوا لب کو سی دیا بھی اگر خامشی داستاں سنائے گی میں اسے کیسے بھول پاؤں گا وہ مجھے کیسے بھول پائے گی بعد ترک تعلقات صباؔ اور بھی اس کی یاد آئے گی
hotaa agar dabiz junun-e-safar kaa rang
ہوتا اگر دبیز جنون سفر کا رنگ خود ہی اترنے لگتا رہ پر خطر کا رنگ سورج غروب ہوتے ہوئے مجھ سے کہہ گیا کچھ تو بتا کہ کیسا ہے خون جگر کا رنگ اے اہلیان امن و اخوت میں کیا کہوں کس درجہ سرخ ہے ترے دیوار و در کا رنگ مانا کہ لب خموش تھے آنکھیں تو چپ نہ تھیں سب راز فاش کر گیا تیری نظر کا رنگ ہاں اے امیر شہر ذرا آنکھ تو ملا تجھ کو بتاؤں کیا ہے رخ معتبر کا رنگ میں آسمان اوڑھ کے سویا رہا صباؔ غربت پہ میری ہنستا رہا شب قمر کا رنگ
gham-e-hayaat ko likkhaa kitaab ki maanind
غم حیات کو لکھا کتاب کی مانند اور ایک نام کہ ہے انتساب کی مانند نہ جانے کہہ دیا کس بے خودی میں ساقی نے سرور تشنہ لبی ہے شراب کی مانند بہت قریب سے دیکھا تو انکشاف ہوا وہ خار خار ہے شاخ گلاب کی مانند مرا سوال کہ کس نے مجھے تباہ کیا ترا سکوت مکمل جواب کی مانند میں اپنی آنکھوں کو رکھتا ہوں با وضو ہر دم کہ تیرا ذکر مقدس کتاب کی مانند مجھے عزیز ہیں خوابوں کی کرچیاں بھی صباؔ کسی نگاہ میں ہوں گی عذاب کی مانند
tumhein bataaun ki kis mashghale se aai hai
تمہیں بتاؤں کہ کس مشغلے سے آئی ہے مری نظر میں چمک رت جگے سے آئی ہے خیال جیسے ہی آیا ذرا سا دم لے لوں تو اک صدائے جرس قافلے سے آئی ہے چمک رہی ہے جبیں نقش پا کی برکت سے وہ بالیقیں ترے راستے سے آئی ہے یہ کیا عجب ہے کہ مجھ کو ہی کچھ نہیں معلوم جو میری بات ترے واسطے سے آئی ہے تم اپنے جسم کی خوشبو سنبھال کر رکھنا یہ بہکی بہکی صدا آئنے سے آئی ہے بس اتنی ضد تھی مصلیٰ بچھا کے پینا ہے پلٹ کے میری انا میکدے سے آئی ہے جسے بھلائے زمانہ گزر چکا تھا صباؔ اسی کی یاد بڑے ولولے سے آئی ہے





