SHAWORDS
Kanta Grover Shabnam

Kanta Grover Shabnam

Kanta Grover Shabnam

Kanta Grover Shabnam

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

خوشی ملے نہ ملے غم سے پیار کرتے ہیں وفا کی راہ سے ہم اس طرح گزرتے ہیں ہمیں خبر ہے تیرا لوٹنا نہیں ممکن مگر ہم اب بھی ترا انتظار کرتے ہیں سفینے دامن ساحل میں ڈوب جاتے ہیں جو حوصلہ ہو تو طوفاں میں بھی ابھرتے ہیں میں آئنہ ہوں حقیقت کا ذہن کا دل کا اگر میں سامنے آؤں تو لوگ ڈرتے ہیں شراب خانے کا رستہ بڑا مقدس ہے جناب شیخ بھی اس راہ سے گزرتے ہیں گلوں کے زخم بھریں کیسے اشک شبنمؔ سے گلوں کے زخم تو خون جگر سے بھرتے ہیں

khushi mile na mile gham se pyaar karte hain

غزل · Ghazal

بھٹک گیا تھا ہمارا جو کارواں نہ ملا کہاں کہاں اسے ڈھونڈا کوئی نشاں نہ ملا جبین شوق تھی بے چین سجدہ کرنے کو جبین شوق کو تیرا ہی آستاں نہ ملا فریب و جور و ستم تیرے سہہ لیے ہنس کر جہان عشق کو ہم سا بھی بے زباں نہ ملا یہ چاند پھول ستارے نسیم‌ صبح بہار تجھے ہی دیکھا مناظر میں تو کہاں نہ ملا تمہارے شہر میں سب کچھ ملا وفا کے سوا ہزار ڈھونڈا کوئی یار مہرباں نہ ملا ہجوم درد و الم میں ہی مبتلا پایا بچھڑ کے آپ سے کوئی بھی شادماں نہ ملا بھری بہار میں شبنمؔ خزاں کا عالم ہے کہ خار زار ملا ہم کو گلستاں نہ ملا

bhaTak gayaa thaa hamaaraa jo kaarvaan na milaa

غزل · Ghazal

دل ہو گیا اداس تو بہلانے آ گئے اے شمع تیرے کوچے میں پروانے آ گئے جیب و گریباں چاک ہیں دامن ہے تار تار دشت جنوں میں شان سے دیوانے آ گئے دامن ہمارا آج بھی کانٹوں سے بھر گیا گلشن کے راستے میں بھی ویرانے آ گئے آتے ہی رہ گزار جنوں میں مقام ہوش دیوانے اہل ہوش کو سمجھانے آ گئے شبنمؔ تھے اجنبی سے ہمیں ان کی بزم میں ان کی نظر کہے تھی کہ بیگانے آ گئے

dil ho gayaa udaas to bahlaane aa gae

غزل · Ghazal

پیار بھرا جب تن من میں پھول کھلے تب آنگن میں ٹوٹ کے برسیں آنکھیں بھی جب وہ نہ آئے ساون میں جان لبوں پر آئی ہے دیر نہ کر اب آون میں دل نے جانے کیا دیکھا اس نر موہی ساجن میں روٹھ نہ جائے پردیسی اس ساون من بھاون میں سب رشتے کھو جاتے ہیں پیار کے اس کدلی بن میں شبنمؔ آنسو موتی ہیں بھر لے اپنے دامن میں

pyaar bharaa jab tan-man mein

غزل · Ghazal

صبح سے گھبرا گئے ہم شام سے گھبرا گئے روز کی اس گردش ایام سے گھبرا گئے کاش آ جائیں پلٹ کر دن ترے آغاز کے اے محبت ہم ترے انجام سے گھبرا گئے بے قراری کی محبت میں بھی حد ہوتی ہے کچھ ہم تو اپنے اس دل ناکام سے گھبرا گئے کب تلک انجام دیں یہ خدمت آہ و فغاں ہم تو اب اے عشق تیرے نام سے گھبرا گئے وہ تو اظہار محبت کی تھی شبنمؔ اک ادا وہ مری نظروں ہی کے پیغام سے گھبرا گئے

subh se ghabraa gae ham shaam se ghabraa gae

غزل · Ghazal

عجیب رسم وفا اختیار کرتے ہیں ہر اک خوشی ترے غم پر نثار کرتے ہیں نہ پوچھ تیری جدائی میں کیا گزرتی ہے تمام رات ستارے شمار کرتے ہیں بنا دیا ہے حقیقت کو تو نے افسانہ ہم اہل درد ترا اعتبار کرتے ہیں لبوں پہ آہ نگاہوں میں یاس دل میں خلش کسی پہ اپنی وفا آشکار کرتے ہیں جلا کے شام سے اشکوں کے دیپ اے شبنمؔ کسی کا تا بہ سحر انتظار کرتے ہیں

ajiib rasm-e-vafaa ikhtiyaar karte hain

Similar Poets