SHAWORDS
Kanval M. A

Kanval M. A

Kanval M. A

Kanval M. A

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

الٰہی دل وہ دے جو محرم اسرار ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جینا مرا بیکار ہو جائے وہ کیسا دل ہے دل جو درد سے بیزار ہو جائے وہ کیسی زندگی جو زندگی پر بار ہو جائے اسی میں ہے خوشی ہر غم سے مجھ کو پیار ہو جائے جو ہونا ہو وہ میری جان کو آزار ہو جائے عنادل نغمہ زن ہوں تو چمن بیدار ہو جائے پریشاں بوئے گل ہو تو فضا سرشار ہو جائے علمبردار امن و آشتی ہوشیار ہو جائے تقاضا وقت کا یہ ہے کہ دنیا دار ہو جائے یہ مانا پردہ داری بھی بہت پر لطف ہوتی ہے برا کیا ہے محبت کا اگر اظہار ہو جائے مزاج اہل دل کی امتیازی شان تو دیکھو جو دشمن جان و دل کا ہے اسی سے پیار ہو جائے کچھ ایسی بات ہو جو موجب تسکین خاطر ہو وہ کیا اقرار ہے جو باعث آزار ہو جائے میں اپنی وضع داری ہاتھ سے جانے نہیں دوں گا اگر سارا جہاں بھی درپئے آزار ہو جائے غم و اندوہ میں تو مسکرانا میری فطرت ہے رہوں افسردہ دل تو زندگی دشوار ہو جائے مجھے بے چارگی بھی وہ عطا کر دیکھ کر جس کو کوئی ہم دم کوئی مونس کوئی غم خوار ہو جائے وہ حرف آرزو جس پر مکمل ضبط ہے اب تک کہیں ایسا نہ ہو شرمندۂ اظہار ہو جائے نمائش تو بجا ہے جلوۂ حسن مجسم کی یہ لازم ہے نظر شائستۂ دیدار ہو جائے غم و آلام ہی میں حوصلے دل کے نکلتے ہیں اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے بشر کو دیکھیے دعویٰ ہے تسخیر دو عالم کا خدا جانے یہ کیا کر دے اگر مختار ہو جائے کنولؔ مے خوار کیا جانے سرور بے خودی کیا ہے اسی سے پوچھئے جو بے پیے سرشار ہو جائے

ilaahi dil vo de jo mahram-e-asraar ho jaae

1 views

غزل · Ghazal

اہل جہاں کو مجھ سے عداوت ہے کیا کروں یہ طرز انتقام محبت ہے کیا کروں ناکامیٔ وفا پہ ندامت ہے کیا کروں اے دل یہ ایک تلخ حقیقت ہے کیا کروں خود غم پسند میری طبیعت ہے کیا کروں اس کو ہر ایک رنج میں راحت ہے کیا کروں اظہار درد دل بھی کچھ آساں نہیں مگر ضبط ستم بھی ایک مصیبت ہے کیا کروں اپنا رہا ہوں غم کو بڑے احترام سے روز ازل سے یہ مری عادت ہے کیا کروں دل کا قرار چھین لیا کس کی یاد نے یہ زندگیٔ ہجر مصیبت ہے کیا کروں میرے پیام مہر و وفا کا اثر ہو کیا دنیا ہی بے نیاز محبت ہے کیا کروں بے وجہ جس کے ناز اٹھاتا ہوں رات دن اس بے وفا کو مجھ سے عداوت ہے کیا کروں اپنی مصیبتوں کا کسی سے گلہ نہیں اپنا ہی دل مرے لیے آفت ہے کیا کروں دل میں تڑپ ہے سوز ہے غم ہے ملال ہے اے جذب شوق یہ مری قسمت ہے کیا کروں ارمان عیش کا نہ تمنا نشاط کی جو مل گیا اسی پہ قناعت ہے کیا کروں ہمت شکن ہیں راہ محبت کے مرحلے ہر موڑ ہر قدم پہ مصیبت ہے کیا کروں خود میرا دل بھی بات مری مانتا نہیں اس پر بھی اب کسی کی حکومت ہے کیا کروں کیا خوب ہے یہ عالم دنیائے شوق بھی اک بے وفا سے مجھ کو محبت ہے کیا کروں آئے نہ آئے دل کو یقیں لیکن اے کنولؔ ان کے ہر ایک وعدے میں لذت ہے کیا کروں

ahl-e-jahaan ko mujh se adaavat hai kyaa karun

1 views

غزل · Ghazal

کیا کہوں مجھ پہ جو اے دشمن جاں گزری ہے تری ہر بات طبیعت پہ گراں گزری ہے کچھ نہ سمجھے گا تو بیتابیٔ دل کا عالم یہ مصیبت کی گھڑی تجھ پہ کہاں گزری ہے نونہالان چمن بھی خس و خاشاک ہوئے خاک اڑاتی ہوئی یوں باد خزاں گزری ہے زندگی نغمۂ بے ساز و نوا تھی پہلے آج تک خیر سے اے درد نہاں گزری ہے جادۂ شوق میں یہ بھی مجھے معلوم نہیں دن کہاں بیت گیا رات کہاں گزری ہے زیست وہ کیا ہے جو موہوم سی امید لیے موت کی راہ سے بے نام و نشاں گزری ہے دیکھیے رنگ جماتی ہے بہار اب کیوں کر لوٹ کر حسن گلستاں کو خزاں گزری ہے جرأت عرض تمنا مجھے کیوں کر ہو کنولؔ خاطر حسن پہ ہر بات گراں گزری ہے

kyaa kahun mujh pe jo ai dushman-e-jaan guzri hai

1 views

غزل · Ghazal

مایوس میرے غم سے نہ ہو چارہ گر کہیں گھبرا کے کہہ نہ جائے کہ بے موت مر کہیں دل کو بھی اب جلا نہ دے سوز جگر کہیں برباد ہو نہ جائے مرا یہ بھی گھر کہیں وہ آئنے میں محو ہیں میں ان میں محو ہوں میری نظر کہیں ہے تو ان کی نظر کہیں اے پیکر جمیل تجھے یاد ہو نہ ہو تجھ سے کبھی ملے تو تھے ہم بیشتر کہیں کیا مرحلے ہیں راہ محبت کے مرحلے دل پر کہیں بنی ہے مری جان پر کہیں ٹھہرا ہو ایک پل بھی جہاں کاروان دل آیا نہ راہ شوق میں ایسا نگر کہیں منزل کی جستجو میں یہ عالم ہے الاماں روکے ہوئے ہیں راہ کہیں راہ بر کہیں ہم نے بڑے خلوص و محبت سے بات کی جب بھی ہمیں ملا ہے کوئی معتبر کہیں شوق سفر تو ہے دل پر اشتیاق کو ہو جائے مضمحل نہ یہ وقت سفر کہیں روز ازل وہ درد مسلسل عطا ہوا دل کو سکون مل نہ سکا عمر بھر کہیں اس خانماں خراب کا عالم نہ پوچھئے جس بے نوا کی شام کہیں ہو سحر کہیں ہر ذرہ پر‌ ضیا تھا تری جلوہ گاہ کا میری ہی تھی خطا کہ جھکایا نہ سر کہیں اے ہم سفر یہ عزم سفر تو بجا سہی در پیش ہو نہ زحمت طول سفر کہیں رہنے دے اپنے حال میں مست اے صبا نہ چھیڑ میرا ابھی خیال کہیں ہے نظر کہیں بہر خدا نہ چھیڑئیے یوسف کا واقعہ بے آبرو ہوا نہ کوئی اس قدر کہیں تسخیر کائنات کے دعوے بجا سہی ہم رتبۂ خدا بھی ہوا ہے بشر کہیں ہو تیری بات بات میں اک بات اے کنولؔ بے لطف بے مزہ نہ ہو فکر و نظر کہیں

maayus mere gham se na ho chaaraagar kahin

1 views

غزل · Ghazal

اپنی قسمت میں اگر عیش کے ساماں ہوتے عین ممکن تھا کہ ہم اور پریشاں ہوتے باغباں ناز نہ کر اپنے چمن زاروں پر ہم نے دیکھے ہیں چمن زار بیاباں ہوتے اور ہی ڈھنگ سے تنظیم گلستاں ہوتی دور اندیش اگر اہل گلستاں ہوتے یہی دنیا جو جہنم ہے وہ جنت ہوتی اپنے کردار سے انساں اگر انساں ہوتے شاخ نازک پہ کھلے ہی تھے کہ مرجھا بھی گئے ایک دن پھول یہی شان بہاراں ہوتے اپنے ہی گھر کی کسی شے پہ نہیں حق اپنا اس سے بہتر تھا کہ ہم بے سر و ساماں ہوتے ہم نے ہر جور سہا ان کا خوشی سے لیکن کاش وہ اپنی جفاؤں پہ پشیماں ہوتے کوئی خوبی نہ کوئی وصف نہ کوئی جوہر ہم اگر ہوتے تو کس بات پہ نازاں ہوتے طبع موزوں میں اگر زور بیاں بھی ہوتا ہم بھی اوروں کی طرح شعلہ بداماں ہوتے اے کنولؔ پائے طلب ہی میں تھی لغزش ورنہ مرحلے جو بھی تھے اس راہ میں آساں ہوتے

apni qismat mein agar aish ke saamaan hote

1 views

غزل · Ghazal

ہر اک درد و غم کی دوا ہو گئے مرے دل کا وہ مدعا ہو گئے جو لب پر تھے نالے رسا ہو گئے مرے حق میں پیہم دعا ہو گئے ادھر جذب دل کامراں ہو گیا ادھر ان کے وعدے وفا ہو گئے تری یاد میں گم ہوئے اس قدر ہر اک قید غم سے رہا ہو گئے کسی غم کو بھی جو نہ خاطر میں لائے ترے غم میں وہ مبتلا ہو گئے مرے غم کا افسانہ سن سن کے وہ غنیمت ہے درد آشنا ہو گئے وہی زخم جو دل پہ تھے اے کنولؔ گلوں کی طرح خوش نما ہو گئے

har ik dard-o-gham ki davaa ho gae

1 views

Similar Poets