SHAWORDS
K

Kanwal D. Raj

Kanwal D. Raj

Kanwal D. Raj

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہم نے اشکوں سے خوشی کے پاؤں تو دھوئے بہت اپنی نادانی پہ لیکن عمر بھر روئے بہت ہم سے رخصت ہو گئی جب زندگی کی ہر خوشی تان کر چادر غموں کی چین سے سوئے بہت رام جانے کیوں برائی کا رہا کھٹکا مجھے زندگی میں نیکیوں کے بیج تو بوئے بہت بوجھ اپنا ہی وبال جان ہو کر رہ گیا حسرتوں کے بوجھ یوں تو عمر بھر ڈھوئے بہت اپنی ہمت تھی کہ ان سے بچ بچا کر آ گئے ورنہ راہوں میں جہاں نے خار تو بوئے بہت کارواں لے کر چلے تھے زندگی کا ساتھ میں راستوں میں ہم نے لیکن ہم سفر کھوئے بہت کر گئی حد سے تجاوز جب پشیمانی کبھی رکھ کے سر دہلیز پر ان کی کنولؔ روئے بہت

ham ne ashkon se khushi ke paanv to dhoe bahut

غزل · Ghazal

ایک دن ہنس کر بول اٹھی یوں میرے پاؤں تلے کی مٹی میں بھی اک دن تم جیسی تھی چنچل چلتی پھرتی مٹی یہ مدماتے ہنستے چہرے یہ چنچل کجراری آنکھیں آنکھ مچولی کھیل رہی ہے کیا جانے کس کس کی مٹی ہنستے گاتے گیت خوشی کے یہ ساغر یہ مے کے پیالے ان کے پیچھے جھانک رہی ہے دیکھو رنگ برنگی مٹی آئے گا کس کام تکبر چھوڑو یہ بیکار کی باتیں مٹی تو پھر مٹی ٹھہری کیا کالی کیا گوری مٹی ناحق سن کر جھوم رہے ہو پیار محبت کے افسانے ان پر جم کر رہ جائے گی اک دن اچھی خاصی مٹی دل پر ٹھیس لگانے والو ٹوٹ گیا تو پچھتاؤ گے آنسو بن کر بہہ جائے گی ان آنکھوں کی گیلی مٹی جب پت جھڑ کا ظالم گلچیں پھول کنولؔ کا لے جائے گا برسوں اس کو یاد کرے گی اس گلشن کی سوندھی مٹی

ek din hans kar bol uThi yuun mere paanv tale ki miTTi

غزل · Ghazal

جسم تو ٹوٹ چکا پھر بھی انا ہے مجھ میں مجھ کو لگتا ہے کہ کچھ میرے سوا ہے مجھ میں کوئی گزرا تھا مجھے چھو کے گلوں کی صورت آج تک پیار سے جینے کی ادا ہے مجھ میں میری سانسوں میں مچلتے ہیں کسی کے نغمے صرف کہنے کے لیے میری صدا ہے مجھ میں دل لگانے کا یہی ایک نتیجہ نکلا ایک محشر سا شب و روز بپا ہے مجھ میں خود پہ کیا ناز کروں میری حقیقت یہ ہے تن ہے مٹی کا یہ تھوڑی سی ہوا ہے مجھ میں بیج بھی پیڑ بھی پتا بھی ثمر بھی میں ہوں وقت کے ساتھ بدلتا ہوا کیا ہے مجھ میں جھوٹ کو میں نے کبھی سچ نہیں مانا اب تک اک یہی عیب کنولؔ سب سے بڑا ہے مجھ میں

jism to Tuut chukaa phir bhi anaa hai mujh mein

غزل · Ghazal

اپنوں کی زباں اور ہے غیروں کی زباں اور پھولوں کے نشاں اور ہیں کانٹوں کے نشاں اور ہر سمت وہی برق وہی آگ کے شعلے آباد کہاں جا کے کریں دل کا جہاں اور اب اور نہ غم دو کہ نکل آئیں گے آنسو بھڑکے گی اگر آگ تو اٹھے گا دھواں اور نکلو تو سہی گھر سے کوئی لے کے ارادہ کام آئے گا پھر آپ کے یہ عزم جواں اور تم دور چلے جاؤ گے جب چھوڑ کے تنہا رہ رہ کے ستائے گا مجھے درد نہاں اور صدمات کے اس بوجھ سے میں ٹوٹ گیا ہوں اٹھنے کا نہیں مجھ سے یہ اب بار گراں اور کیا سچ ہے کنولؔ جھوٹ ہے کیا کون بتائے زخموں کے بیاں اور ہیں قاتل کا بیاں اور

apnon ki zabaan aur hai ghairon ki zabaan aur

غزل · Ghazal

وقت کی موجوں سے ہر دم کھیلتا رہتا ہوں میں زندگی کیا چیز ہے یہ سوچتا رہتا ہوں میں لوٹ آتے ہیں پرندے چھو کے نیلا آسماں اور اڑنے کے لیے پر تولتا رہتا ہوں میں زندگی کا ذکر آتا ہے تو پانی پر کہیں انگلیوں سے کچھ لکیریں کھینچتا رہتا ہوں میں یہ نہ پوچھو کیا ہوں میں ہے اور کیا میری بساط آئنہ ہوں روز بنتا ٹوٹتا رہتا ہوں میں اس طرح کرتا ہوں خوشیوں میں اضافہ اور بھی اپنی خوشیاں دوسروں میں بانٹتا رہتا ہوں میں سوچتا ہوں اس لیے شاید نہیں منزل ملی ہر کسی سے راہ منزل پوچھتا رہتا ہوں میں جب بھی چلتی ہے کبھی دکھ درد کی آندھی کنولؔ گیلے کپڑوں کی طرح بس سوکھتا رہتا ہوں میں

vaqt ki maujon se har dam kheltaa rahtaa huun main

Similar Poets