SHAWORDS
Kanwal Pradeep Mahajan

Kanwal Pradeep Mahajan

Kanwal Pradeep Mahajan

Kanwal Pradeep Mahajan

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

کھلے جب کبھی دفتر رفتگاں ہوں آنکھیں مری اور سیل رواں نزاکت لطافت غم جاوداں کہ ہے خوب رخت دل شاعراں ترا ہی تصور غزل در غزل ترا ہی بیاں داستاں داستاں مری جستجو تا افق تا افق سفر در سفر کارواں کارواں غم زندگی مستقل مستقل مرا ذوق فن رائیگاں رائیگاں

khule jab kabhi daftar-e-raftagaan

غزل · Ghazal

ترے فراق میں یوں زندگی سنور جائے ہر ایک لمحہ تری یاد میں گزر جائے نشاط وصل و غم ہجر کے سہارے پر برا ہی کیا ہے اگر زندگی گزر جائے حیات جسم کا جیسے اپھنتا دریا ہے کوئی ذی حوصلہ جو ہو تو پار اتر جائے ہم اس کی مانگ میں سندور بھرنے آئے ہیں غم حیات سے کہہ دو ذرا سنور جائے کہیں تو ختم ہو یہ ریگزار سود و زیاں کہیں تو آ کے زمانہ ذرا ٹھہر جائے کنولؔ ذرا اسے خون جگر سے بھرنے دو کہ حسن آرزو کچھ اور بھی نکھر جائے

tire firaaq mein yuun zindagi sanvar jaae

غزل · Ghazal

دو ہی مصرعوں میں بات ہوتی ہے یہ غزل کی بساط ہوتی ہے درد و اندوہ کے تلاطم میں مسکراؤ تو بات ہوتی ہے ایک کے بعد ایک ہے غم سے جیتے جی کب نجات ہوتی ہے زندگی ختم ہو بھی جائے تو ختم کب واردات ہوتی ہے کوئی قندیل ہی کرو روشن کنولؔ اٹھو کہ رات ہوتی ہے

do hi misron mein baat hoti hai

غزل · Ghazal

اسے خیال میں باندھوں کہ خواب میں دیکھوں کوئی وہ بت ہے اسے کیوں حجاب میں دیکھوں یہ وصف بھی دل خانہ خراب میں دیکھوں سراپا میں اسے سو سو حجاب میں دیکھوں اسی کا نقش میں ہر انتخاب میں دیکھوں اسی کا ذکر ہے جس بھی کتاب میں دیکھوں اسی کا عکس ابھر آئے صفحے صفحے پر اسی کا نام میں ہر ایک باب میں دیکھوں اسی کے رخ کے خد و خال پڑھتا رہتا ہوں وہ ہی نہ ہو کہیں شامل نصاب میں دیکھوں سوال کر تو دیا اس سے بے خودی میں کنولؔ مرے نصیب میں کیا ہے جواب میں دیکھوں

use khayaal mein baandhun ki khvaab mein dekhun

غزل · Ghazal

حیات و موت کے پردے اٹھا دئے جائیں کہ اب نقوش حقیقت دکھا دئے جائیں تمام رات مرے ساتھ جلے ہیں تنہا سحر قریب ہے دیپک بجھا دئے جائیں ہمارے دور میں حکام کی یہ سازش ہے کہ خام نینو پہ ایواں بنا دئے جائیں ذرا سی دیر کی خوشیوں نے ان کو لوٹ لیا اداسیوں کے نگر پھر بسا دئے جائیں خلوص و دوستی بیتے دنوں کی باتیں ہیں کہ طاق پر یہ گہر اب سجا دئے جائیں کوئی جواب ہی جن کا نہ بن پڑے تم سے جو وہ سوال ہی اب کے اٹھا دئے جائیں جو ہم چلے ہیں نئے نقش اب کریں پیدا تمام نقش کف پا مٹا دئے جائیں نئے ہیں طور طریقے نظام نو ہے کنولؔ پرانے دور کے قصے بھلا دئے جائیں

hayaat-o-maut ke parde uThaa diye jaaein

غزل · Ghazal

پھر غالبؔ کو یاد کریں پھر دیدۂ تر کی بات کریں دل کی جگر کی بات کریں پھر سودائے سر کی بات کریں جب ٹپکا تھا خون شہیداں جب مہکی تھی ارض وطن آؤ ہمدم اس لمحے کی اس منظر کی بات کریں قاتل تو قاتل ٹھہرا اس نے جو کیا سو کرنا تھا چارہ گر نے کیوں منہ پھیرا چارہ گر کی بات کریں اپنے آپ کو بھی پہچانیں خود سے تعارف بھی کر لیں اپنی جن کو سار نہیں وہ دنیا بھر کی بات کریں شب تو کنولؔ ہر حال میں ہی کٹ جانی ہے کٹ جائے گی کیوں الجھیں تاریکی سے پھر کیوں نہ سحر کی بات کریں

phir 'ghaalib' ko yaad karein phir dida-e-tar ki baat karein

Similar Poets