Kareem Darvesh
Kareem Darvesh
Kareem Darvesh
Ghazalغزل
lab pe tabassum roz sajaanaa paDtaa hai
لب پہ تبسم روز سجانا پڑتا ہے غم اپنا اس طرح چھپانا پڑتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے اصولی جنگوں میں ہار کو بھی سینے سے لگانا پڑتا ہے کھا کر روکھی-سوکھی ننھے بچوں کو پیٹ کا شعلہ روز بجھانا پڑتا ہے جوڑ رہے ہیں پیسہ پیسہ سب لیکن سب دنیا میں چھوڑ کے جانا پڑتا ہے ہم مزدوروں کی قسمت میں چھاؤں کہاں دھوپ میں خود کو روز جلانا پڑتا ہے جھوٹی تسلی دے دے کر ارمانوں کو سارا سارا دن بہلانا پڑتا ہے پیٹ کی آگ بجھانے کو درویشؔ یہاں قطرہ قطرہ خون جلانا پڑتا ہے
rangini-e-hayaat ke manzar se duur hai
رنگینئ حیات کے منظر سے دور ہے دل اپنا روشنئ مقدر سے دور ہے یہ سچ ہے کوئی دوست نہیں زندگی کے ساتھ یہ کیا ہے کم کہ فتنۂ محشر سے دور ہے الفاظ کا مہکتا ہے گلدان ہر گھڑی افکار کا اجالا مگر سر سے دور ہے گمراہیوں سے اس کو بچا لے خدائے پاک یہ قوم آج درس پیمبر سے دور ہے میں اپنا ہاتھ سوئے فلک تو بڑھائے ہوں یہ اور بات ہے مہ و اختر سے دور ہے مزدور ہوں میں کرتا ہوں محنت تمام دن خوشحالی پھر بھی میرے مقدر سے دور ہے درویشؔ اپنی ذات سے تم کیوں ہو مطمئن کیا گردش حیات کے تیور سے دور ہے
bataaein kyaa tumhein khun-e-tamannaa roz hotaa hai
بتائیں کیا تمہیں خون تمنا روز ہوتا ہے میاں چھلنی غریبوں کا کلیجہ روز ہوتا ہے کبھی کلیوں کی دل سوزی کبھی ہے قتل پھولوں کا تمہیں بتلاؤ اس گلشن میں یہ کیا روز ہوتا ہے یہاں مفلس اجالے کی کرن کو بھی ترستے ہیں مگر کہنے کو بستی میں اجالا روز ہوتا ہے یہ کہہ دو قائدوں سے اب یہاں زحمت نہ فرمائیں ہمارے شہر میں بیدار فتنہ روز ہوتا ہے یہاں نیلام ہو جاتی ہے عزت چند سکوں میں یہ دنیا ہے یہاں ایسا تماشا روز ہوتا ہے اگر درویشؔ تم رسوا ہوئے ہو تو تعجب کیا شریفوں کی حویلی میں تو ایسا روز ہوتا ہے
chaahte ho jo koi khanDar dekhnaa
چاہتے ہو جو کوئی کھنڈر دیکھنا دوستو اک نظر میرا گھر دیکھنا لب ہلائے ہیں میں نے خلاف ستم اب بلا آئے گی میرے سر دیکھنا پہلے گھر کے چراغوں پہ رکھو نظر بعد میں تم یہ شمس و قمر دیکھنا ایسا لگتا ہے میرے مقدر میں ہے دامن زندگی خوں سے تر دیکھنا دے رہے ہو ہوا یاد رکھنا مگر شعلہ بن جائے گا یہ شرر دیکھنا ہم نے سب سہہ لئے تیرے ظلم و ستم اب دعا کا ہماری اثر دیکھنا خیر سے آپ نے خیر دیکھا ہے خیر رہنما سے کبھی اس کا شر دیکھنا تیری چشم عنایت کا طالب ہوں میں اک نگاہ غلط ہی مگر دیکھنا کاش درویشؔ ہو میری تقدیر میں منظر خوش نما عمر بھر دیکھنا





