SHAWORDS
Kareem Roomani

Kareem Roomani

Kareem Roomani

Kareem Roomani

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

شکوۂ جور و جفا کون کرے ان سے امید وفا کون کرے کعبۂ دل میں صنم رہتا ہے جان کو دل سے جدا کون کرے وقت خود چارہ گر اعظم ہے زخم الفت کی دوا کون کرے لو اٹھا مثل دھواں رومانیؔ ان کی محفل میں جلا کون کرے

shikva-e-jaur-o-jafaa kaun kare

غزل · Ghazal

شکوہ نہ کریں گے کبھی ہم برق و شرر سے گلشن میں تو خود آگ لگی ہے گل تر سے وہ لوگ تو ساحل پہ بھی ڈوبیں گے یقیناً گھبرا کے پلٹتے ہیں جو طوفان کے ڈر سے تر دامنی پہ طنز نہ کر میری اے واعظ دامن نہ کہیں تر ہو ترا دامن تر سے کیا کوئی مۂ خوبی نکل آیا سر شام تارے بھی نظر آتے گردوں میں شرر سے یہ کیسا ہے دستور تری بزم کا ساقی خم کوئی لنڈھائے تو کوئی بوند کو ترسے وہ مجھ سے لپٹ جاتے ہیں بادل کی گرج سے اللہ کرے اب یہ گھٹا جھوم کے برسے جبرئیل کے پر جلتے ہیں جس جا پہ اے ہمدم رومانیؔ وہاں پہنچا ہے تخئیل کے پر سے

shikva na kareinge kabhi ham barq-o-sharar se

غزل · Ghazal

مجھے پتھروں سے بڑھ کر تری اک کلی نے مارا مجھے دشمنوں سے بڑھ کر تری دوستی نے مارا غم روزگار سہہ کر میں تو جی رہا تھا پھر بھی مرے ناتوان دل کو تری عاشقی نے مارا نہ گلہ کروں نہ شکوہ نہ زمانہ کا نہ تیرا مجھے میری بد نصیبی مری بے بسی نے مارا نہ ہی تیر نیم کش نے نہ ہی بجلیوں نے مارا مرے ناتوان دل کو تری سادگی نے مارا مرے زخم کے جھروکے ترے درد سے ہیں روشن اسی درجہ لا دوا کی مجھے روشنی نے مارا مجھے موت کا نہیں غم وہ تو آئے گی یقیناً جسے ہم گلے لگائے اسی زندگی نے مارا

mujhe pattharon se baDh kar tiri ik kali ne maaraa

غزل · Ghazal

موت تھی زندگی تھی یاد نہیں کون مجھ سے ملی تھی یاد نہیں ہم نے روشن تو کی تھی شمع وفا وہ جلی تھی بجھی تھی یاد نہیں خاک تو ہو گیا تھا پروانہ شمع کیوں رو پڑی تھی یاد نہیں اشک شبنم پہ مسکراتے ہیں آپ تھے یا کلی تھی یاد نہیں کوئی مل کے گلے تو روتا تھا آپ تھے یا خوشی تھی یاد نہیں بزم عشرت میں غم زدہ دل تھا جانے کس کی کمی تھی یاد نہیں خم کے خم پی گیا تھا نظروں سے پھر بھی کیوں تشنگی تھی یاد نہیں لب پہ آہ و فغاں ہے رومانیؔ دل لگی تھی لگی تھی یاد نہیں

maut thi zindagi thi yaad nahin

غزل · Ghazal

تم کلی اک گلاب کی سی ہو اک کرن آفتاب کی سی ہو دوڑتا ہوں میں تشنہ لب پیچھے میرے حق میں سراب کی سی ہو جو نہ تعبیر ہو سکے گا کبھی تم حسیں ایسے خواب کی سی ہو حسن بے مثل لا جواب ترا یہ غلط ماہتاب کی سی ہو ایک دریا ہے موجزن تم میں اک امنڈتے شباب کی سی ہو حال دل کا ترے میں کیا جانوں بند تم اک کتاب کی سی ہو

tum kali ik gulaab ki si ho

غزل · Ghazal

نظر عالم کی بن جائے وہ ہوگا کب بشر پیدا بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا قصور اپنا ہی تھا جو اس ستم گر کی تمنا کی نہ ہوتی یہ خلش دل میں نہ ہوتا یہ شرر پیدا رخ روشن پہ زلفوں کا یہ لہرانا یہ اڑ جانا مری دنیائے دل میں کرتے ہیں شام و سحر پیدا اسیران قفس مایوس ہونے کی ضرورت کیا اگر ہوں حوصلے دل میں تو ہوں گے بال و پر پیدا در پروانہ پہ خود شمع کھنچ کے آ ہی جائے گی اگر ہو جذب دل اپنا تو پھر کچھ ہو اثر پیدا

nazar aalam ki ban jaae vo hogaa kab bashar paidaa

Similar Poets