Karimuddin Sanat Moradabadi
وصل کی شب میں بھی ہم باہم دگر رویا کئے میں جدائی سے وہ میرے حال پر رویا کئے اس نے زانو غیر کا اپنے رکھا جب زیر سر اپنے زانو پر ہم اپنا رکھ کے سر رویا کئے اس نے آنسو غیر کے پونچھے جب اپنے ہاتھ سے ہم نشیں یہ ماجرا ہم دیکھ کر رویا کئے ہو گیا مشکل مری مژگاں سے مژگاں کا ملاپ حائل اک دریا ہوا ہم اس قدر رویا کئے سرخ رو بے آبروئی میں بھی ہم صنعتؔ رہے خشک جب آنسو ہوئے لخت جگر رویا کئے
vasl ki shab mein bhi ham baaham digar royaa kiye