SHAWORDS
Kashif Lashari

Kashif Lashari

Kashif Lashari

Kashif Lashari

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

عشق یک طرفہ تھا یہ مان لیا ہے میں نے کون کیا ہے یہی اب جان لیا ہے میں نے لوگ پھر رنگ کوئی اور اسے دیں شاید اس لیے راستہ سنسان لیا ہے میں نے عشق کے بدلے میں رسوائی ملی ہے یعنی نفعے کے نام پہ نقصان لیا ہے میں نے وہ مجھے یاد کریں گے ارے نا ممکن ہے کہ رویے سے ہی پہچان لیا ہے میں نے کس طریقے سے کروں خودکشی اس سوچ میں ہوں ہجر کے روگ سے سامان لیا ہے میں نے اس جہاں میں نہ کوئی شخص کسی کا رہتا یہ سبق بھی ارے نادان لیا ہے میں نے اپنے ہر فعل میں گویا ہے درندہ کاشفؔ بس معانی میں ہی انسان لیا ہے میں نے

ishq yak-tarfa thaa ye maan liyaa hai main ne

1 views

غزل · Ghazal

اب مجھ کو درد سہنے کی عادت نہیں رہی یہ سچ ہے چاہ سے ابھی چاہت نہیں رہی دو پل کا بھی سکون میسر نہیں مجھے تڑپا ہوں یوں کہ چین کی حاجت نہیں رہی دل سے لگا کے یاد کو عاجز ہوا ہوں میں اب تیری یاد میں وہی راحت نہیں رہی شکوے شکایتیں بھی کروں کس سے میں بھلا جب خود میں دیکھنے کی بصارت نہیں رہی ایمان داری سے تو وہی لوگ دور ہیں کہتے ہیں جو یہاں کہ صداقت نہیں رہی سب دکھ تمہارے سہہ لیے کاشفؔ خوشی خوشی سہنے کی اور مجھ میں تو طاقت نہیں رہی

ab mujh ko dard sahne ki aadat nahin rahi

1 views

غزل · Ghazal

مجھے آزاد کر دو نا سبھی پر سوز نالوں سے مری اے خم زدہ قسمت دکھوں کی سخت چالوں سے کہاں سے صبر لائیں ہم کہاں اب اور جائیں ہم بہت ہی زخم پائے ہیں ارے ان حسن والوں سے کسی کو سوچ کر کیسے کسی کی سوچ سے نکلیں بہت بے چین رہتے ہیں کئی ایسے سوالوں سے یہ ہم سے روٹھنے والے منائے اب نہیں جاتے بہت اکتا گئے ہیں ہم منانے کے خیالوں سے خدا کا خوف کھاؤ کچھ ڈرو اس ذات سے لوگو مجھے اب مت ستاؤ نت نئی گہری یہ چالوں سے کوئی نا مہرباں جب ہے بنے گا مہرباں کیسے اسی الجھن میں الجھے ہیں گزشتہ آٹھ سالوں سے کسی کا کورے کاغذ پر بنایا عکس تھا کاشفؔ کہ خوشبو اب بھی اٹھتی ہے اسی کے کالے بالوں سے

mujhe aazaad kar do naa sabhi pur-soz naalon se

1 views

غزل · Ghazal

بھول جاؤں گا پیار ماضی کا تھا جو دار و مدار ماضی کا ذہن پر ہے سوار ماضی کا تذکرہ بار بار ماضی کا بے قرار اب ہوں حال میں فی الحال خوب ہی تھا قرار ماضی کا توڑ کر جوڑ کر بھی دیکھا ہے سخت ہے پر حصار ماضی کا مجھے رہ رہ کے یاد آتا ہے وہی موسم بہار ماضی کا اس کے ہاتھوں سے بکھرے تو سوچا یار بہتر تھا یار ماضی کا لاکھ رنجش سہی مگر کاشفؔ اس پہ ہے اعتبار ماضی کا

bhuul jaaungaa pyaar maazi kaa

غزل · Ghazal

ذرا بے اختیار رہنے دے میرا دل بے قرار رہنے دے چھوڑ دے اپنے حال پر مجھ کو نہ ستا اب کے یار رہنے دے سوز کچھ دن مزید دل میں رہے تیر نظروں کا پار رہنے دے بے وفا ہوں وفا نہ کر پایا کچھ ہی دن شرمسار رہنے دے نہ دعا دے نہ ہی دوا دے بس عشق کا یہ بخار رہنے دے پیار جو مانگ کر لیا تجھ سے ہاں وہی بس ادھار رہنے دے زخم بھرنے میں وقت لگتا ہے درد کے اور وار رہنے دے حال مت پوچھ مجھ سے تو کاشفؔ دل پہ چھایا غبار رہنے دے

zaraa be-ikhtiyaar rahne de

Similar Poets