
Kashmiri Lal Zakir
Kashmiri Lal Zakir
Kashmiri Lal Zakir
Ghazalغزل
یہ چاند اتنا نڈھال کیوں ہے یہ سوچتا ہوں یہ چاندنی کو زوال کیوں ہے یہ سوچتا ہوں مجھے تو اس کا ملال تھا وہ جدا ہوا تھا اسے بھی اس کا ملال کیوں ہے یہ سوچتا ہوں اگر جدائی کی لذتیں ہی عزیز تر ہیں تو مجھ کو فکر وصال کیوں ہے یہ سوچتا ہوں مرے فسانے عوام کو بھی پسند کیوں ہیں ترے کرم کا کمال کیوں ہے یہ سوچتا ہوں اگر محبت میں سارے رشتوں کی عظمتیں ہیں تو دشمنی کا سوال کیوں ہے یہ سوچتا ہوں
ye chaand itnaa niDhaal kyuun hai ye sochtaa huun
یہ اور بات کہ آگے ہوا کے رکھے ہیں چراغ رکھے ہیں جتنے جلا کے رکھے ہیں نظر اٹھا کے انہیں ایک بار دیکھ تو لو ستارے پلکوں پہ ہم نے سجا کے رکھے ہیں کریں گے آج کی شب کیا یہ سوچنا ہوگا تمام کام تو کل پر اٹھا کے رکھے ہیں کسی بھی شخص کو اب ایک نام یاد نہیں وہ نام سب نے جو مل کر خدا کے رکھے ہیں انہیں فسانے کہو دل کی داستانیں کہو یہ آئنے ہیں جو کب سے سجا کے رکھے ہیں خلوص درد محبت وفا رواداری یہ نام ہم نے کسی آشنا کے رکھے ہیں تمہارے در کے سوالی بنیں تو کیسے بنیں تمہارے در پہ تو کانٹے انا کے رکھے ہیں
ye aur baat ki aage havaa ke rakkhe hain
شبنم میں چاندنی میں گلابوں میں آئے گا اب تیرا ذکر ساری کتابوں میں آئے گا جو لمحہ کھو گیا ہے اسے پھر نہ ڈھونڈھنا جو چاند ڈھل چکا ہے وہ خوابوں میں آئے گا دکھ دے رہی ہیں اس کی یہ برفیلی عادتیں پگھلے گا ایک دن تو شرابوں میں آئے گا پہچان بھی سکو گے نہیں اپنے نام کو آئے گا بھی تو اتنے حجابوں میں آئے گا جب تیرا نام حسن کی تاریخ بن گیا پھر میرا ذکر دل کی کتابوں میں آئے گا
shabnam mein chaandni mein gulaabon mein aaegaa





