Katib Khan
Katib Khan
Katib Khan
Ghazalغزل
اب ہم سے بار دہر اٹھایا نہ جائے گا اس لوح دل سے تم کو مٹایا نہ جائے گا دل میں خوشی کے ساتھ غم زندگی بھی ہے یاد آ گئے ہو تم تو بھلایا نہ جائے گا جلتے ہوئے چراغ بجھائے بہت مگر دل جل گیا اگر تو بجھایا نہ جائے گا اکثر ملے ہیں دل یہ جدائی کے واسطے دل مل گئے تو ہاتھ ملایا نہ جائے گا ہم اس طرح سے آپ کو جائیں گے چھوڑ کر دیوار ٹوٹ جائے گی سایہ نہ جائے گا
ab ham se baar-e-dahr uThaayaa na jaaegaa
ہم اس کے شہر سے کچھ واردات کرتے گئے جو بات ظرف ادب تھی وہ بات کرتے گئے اک حادثے میں کسی نے گلے لگایا تھا اسی خیال میں ہم حادثات کرتے گئے میں جس کی راہ سے سب مشکلیں ہٹاتا تھا وہ میری راہ میں سب مشکلات کرتے گئے جو ہم کو راہ کے پتھر بتایا کرتے تھے ہم ان کے نام پہ اک کائنات کرتے گئے کسی نے ہم سے کہا دل سنبھالیے اپنا یہ دل سنبھل نہ سکا احتیاط کرتے گئے
ham us ke shahr se kuchh vaardaat karte gae





