Kaukab Shahjahanpuri
Kaukab Shahjahanpuri
Kaukab Shahjahanpuri
Ghazalغزل
وہ حسن برق طلعت کا مری آنکھوں میں گھر کرنا وہ منظر پھر ذرا اے جذب دل پیش نظر کرنا غم ہستی میں پھر ہونے لگی ہے بے خودی زائل ذرا پھر اک نظر پھر دو جہاں سے بے خبر کرنا خدارا چھوڑ دے اے چارہ فرما چشم ساقی پر حزیں دل کو نشاط زندگی سے بہرہ ور کرنا کوئی حسرت ہو کچھ تو زاد راہ زیست مل جائے بہت دشوار ہے بے مدعا شام و سحر کرنا نہ غیروں نے مجھے پوچھا نہ اپنوں نے مجھے سمجھا مرے حصہ ہے کوکبؔ زندگی تنہا بسر کرنا
vo husn-e-barq-talat kaa miri aankhon mein ghar karnaa
جو جلوہ زار حسن تھا وہ دل نہیں رہا آئینہ تو ہے جوہر قابل نہیں رہا میں لطف التفات کے قابل نہیں رہا پھر بھی تو مجھ سے وہ کبھی غافل نہیں رہا وہ اور مجھ سے ترک تعلق نہیں نہیں میرے ہی دل میں جذبۂ سیمیں نہیں رہا اٹھتی تھی جس سے موج طلب پر نفس کے ساتھ وہ جوش بے قراریٔ سائل نہیں رہا غم ہی مگر نصیب کہاں اب نشاط غم کوکبؔ وہ رنگ ولولۂ دل نہیں رہا
jo jalva zaar-e-husn thaa vo dil nahin rahaa
وہ غم جو حاصل ہستی ہے مل چکا کہ نہیں پھر اور کون سا ہے لطف دل کشا کہ نہیں مزاج درد تمنا بدل گیا کہ نہیں وفا نے رنج کو راحت بنا لیا کہ نہیں جو دل میں توڑتی رہتی تھی نیشتر ہر دم ہوئی وہ کاوش جاں کا وہ جاں فزا کہ نہیں جلا دیا تھا لہو جس نے دل کی رگ رگ کا وہ سوز آتش غم راس آ گیا کہ نہیں نظر نظر پہ ہے پیہم تجلیوں کا نزول تلاش حسن کا حق ہو گیا ادا کہ نہیں زہے سرور خلش یہ خبر نہیں دل کو جو چبھ گیا تھا وہ کانٹا نکل گیا کہ نہیں کرشمہ اپنی توجہ کا تم نے دیکھ لیا ٹھہر گئی مری عمر گریز پا کہ نہیں ذرا بتاؤ اگر تم نے سب کی بات سنی مرے سکوت نے بھی تم سے کچھ کہا کہ نہیں کہاں یہ ہوش نشاط طلب میں اے کوکبؔ نگفتہ حرف طلب سن لیا گیا کہ نہیں
vo gham jo haasil-e-hasti hai mil chukaa ki nahin
یہ ہے مری نظروں کی مناجات کا عالم ذرے بھی دکھاتے ہیں سماوات کا عالم پر نور ترے حسن سے آغوش تصور دوری میں بھی حاصل ہے ملاقات کا عالم ایما کا ہے فیضان کہ احساس کا احسان ایک ایک جفا میں ہے مدارات کا عالم جلووں کی یہ کثرت ہے کہ حیران ہیں آنکھیں آئینے دکھاتے ہیں حجابات کا عالم دل پر نہیں قابو تو زباں لاکھ ہو بس میں نظروں سے جھلکتا ہے خیالات کا عالم ہر موج نفس ان کی مہک سے ہے معطر پنہاں ہے تغافل میں عنایات کا عالم کیا ذکر سخن ان کی خموشی میں بھی کوکبؔ انگڑائیاں لیتا ہے کنایات کا عالم
ye hai miri nazron ki munaajaat kaa aalam
او چشم کیف پرور مے خانۂ محبت لبریز رنج و غم ہے پیمانۂ محبت بے درد بے مروت بیگانۂ محبت اک دن سنا تو ہوتا افسانۂ محبت امیدوار دل کو یوں توڑتا ہے کوئی اے دوست بس نہ ٹھکرا نذرانۂ محبت مانا کہ اک ادا ہے صبر آزما تجاہل تاہم نہ اس قدر بن بیگانۂ محبت پھر ڈھونڈھتا ہے کوکبؔ وہ رنگ مے گساری ساقی کی ہر نظر ہو پیمانۂ محبت
o chashm-e-kaif-parvar mai-khaana-e-mohabbat
مرا خیال ہے پابند حسرت و آزادر مرے گمان میں بھی تو نہیں سرور کو پار مرا تبسم بے کیف خندۂ بیمار فروغ آتش دل شعلۂ چراغ مزار شباب میں بھی ہوں بیگانۂ نشاط شباب مری بہار ہے تصویر گلستاں کی بہار عجیب طرح گزرتی ہے زندگی میری نہ اضطراب کا عالم نہ رنگ صبر و قرار ذرا سی ٹھیس غضب ہے وہ رنج ہو کہ خوشی کچھ اس قدر ہے دل کم نصیب خستہ و زار اس ابتدا کی ہے کیا انتہا کسے معلوم ابھی تو موج قفس میں ہے رنگ کاوش خار کسی سے کوئی شکایت نہیں مجھے کوکبؔ مری سرشت ہے محزوں مذاق خود آزار
miraa khayaal hai paaband-e-hasrat-o-aazaar





