Kausar Khaleeqi
Kausar Khaleeqi
Kausar Khaleeqi
Ghazalغزل
na jiine ki tamannaa hai na mar jaane ko ji chaahe
نہ جینے کی تمنا ہے نہ مر جانے کو جی چاہے بتا اے زندگی تیرا کدھر جانے کو جی چاہے مسرت جب تلک تھی ہم رہے دنیا کے میلے میں مگر جب شام غم آئی تو گھر جانے کو جی چاہے نکھر کچھ اس طرح کہ رشک ہو سارے زمانے کو اگر اے زندگی تیرا نکھر جانے کو جی چاہے وطن چھوڑا ہے جس دن سے سکوں دل کو نہیں ملتا یہ عالم ہے کہ دنیا چھوڑ کر جانے کو جی چاہے شعاعیں اس قدر پھیلا رہا ہے شعر کا سورج کہ اخبار و رسائل میں بکھر جانے کو جی چاہے بہت مجبور ہوں کوثرؔ یہ آئین مشیت ہے وگرنہ کس کا دنیا چھوڑ کر جانے کو جی چاہے
shaa'ir-e-aa'zam hai gar honaa
شاعر اعظم ہے گر ہونا رات کو جگنا دن بھر سونا ہاتھ کی ریکھا پارس ہو تو بن سکتا ہے پتھر سونا آزادی اک اچھی شے ہے لیکن چھت تو سر پر ہونا ساری دنیا گھر ہے اپنا کام آیا ہے بے گھر ہونا سہل نہیں ہے دنیا والو آنکھیں منظر منظر ہونا پھول کے جیسی نازک مورت اور مقدر پتھر ہونا





