SHAWORDS
K

Kavish Abbasi

Kavish Abbasi

Kavish Abbasi

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

mire is tapida khuun mein koi tegh si Dhale to

مرے اس تپیدہ خوں میں کوئی تیغ سی ڈھلے تو جو مرض بنا ہے میرا یہی غم دوا بنے تو یہ جہان آتش و خوں یہی رنگ انگ اس کا دل نرم خود بھی میرا اسی رنگ میں ڈھلے تو وہ ہزار وحشتیں جو مرے خوں میں ناچتی ہیں کبھی ایک ایسا میلہ سر بزم بھی سجے تو مری خستہ روزگاری مرے آڑے تھی وگرنہ میں بھی کو بہ کو نکلتا مرے پاس خواب تھے تو سر‌ وقت کیا لکھا ہے وہ بھی دیکھ لیں گے کاوشؔ دل بند پر جنوں کے نئے باب وا ہوئے تو

غزل · Ghazal

tiraa shiaar tiri dhaj mire khayaal mein hai

ترا شعار تری دھج مرے خیال میں ہے سبھاؤ غم میں مرے تمکنت ملال میں ہے وہ تیرا کیف تبسم وہ والہانہ پن مرے جنوں کی چمک بھی ترے جمال میں ہے ترے تکلم رعنا و خوش خیال کی خیر جو عیش زخم میں تھا اب وہ اندمال میں ہے ادائے ناز سے ہے تیری ہجر میں اب کے علاج ہر الم و یاس احتمال میں ہے وہ بے خودی ہے کہ دل میں سماں سجا ہے کوئی فراق ڈوبا ہوا مستی وصال میں ہے فغاں کو زمزمہ کر دے جنوں کو شانت کرے یہ رنگ بھی تو مرے یار خوش خصال میں ہے بھروسہ ہی کف دریائے دل کا کیا کاوشؔ ابھی تو مانا کہ حد میں ہے اعتدال میں ہے

غزل · Ghazal

ulajhti haari nigaahon kaa ham-rikaab to thaa

الجھتی ہاری نگاہوں کا ہم رکاب تو تھا ہزار ٹوٹا ہوا تھا وہ ایک خواب تو تھا میں ان سے کہتا تھا اک دن بچھڑ ہی جائیں گے ہم سو سوجھتا ہمیں پہلے سے کچھ حساب تو تھا اب اس پہ کوئی نہ منزل نہ کوئی دوست سہی مگر یہ راستہ ہی میرا انتخاب تو تھا یہاں پہ موت سا آ کر ہمارا پڑ رہنا خلاف زندگی ہی ایک ارتکاب تو تھا اسی کی ضو ہی سے روشن تھے رات دن میرے وہ دور بھی مرا مہتاب و آفتاب تو تھا کسا ہوا عجب اک راہ پر رہا جیون کہ سخت سچ مرا مجھ پر اک احتساب تو تھا کچل رکھا تھا مجھے جس نے میرے اندر میں وہ باہر آن مری میری تاب ناب تو تھا وفا کا رنج بھی کچھ اس میں تھا مگر دل کا دو لخت ہوتا بھی اک زندگی کا باب تو تھا وہ جس نے مجھ کو نیا آدمی کیا کاوشؔ نظر نہ آیا مگر ایک انقلاب تو تھا

Similar Poets