K
Kavish Jazbati
Kavish Jazbati
Kavish Jazbati
poet
2Ghazal
Ghazalغزل
غزل · Ghazal
udaas banjar dikhaai degi
اداس بنجر دکھائی دے گی زمین پتھر دکھائی دے گی ندی چڑھاؤ پہ آ تو جائے کھلا سمندر دکھائی دے گی ابھی وہ کھڑکی سے جھانکتی ہے ابھی وہ چھت پر دکھائی دے گی کرن اجالے کی دیکھنا اب چمکتا خنجر دکھائی دے گی غموں کے چہرے ملیں گے اکثر خوشی تو پل بھر دکھائی دے گی
غزل · Ghazal
havaa ke vaaste kholin thiin khiDkiyaan ghar ki
ہوا کے واسطے کھولیں تھیں کھڑکیاں گھر کی مگر یہ کیا کہ چلی آئی خاک باہر کی خلا میں گھورتے رہنا ہی اچھا لگتا ہے نہیں ہے آنکھ کو خواہش کسی بھی منظر کی کنارے خشک لبوں کی طرح چٹختے ہیں ہر ایک موج ہی پیاسی ہے کیا سمندر کی یہاں سے لوگوں پہ پتھراؤ بے معانی ہے حفاظت آپ سے ہوگی نہ کانچ کے گھر کی زمین دیکھ کے چلتا ہوں اس طرح کاوشؔ کہ جیسے قدموں تلے سے زمین اب سرکی





