SHAWORDS
Kayyum Khan Jalaal

Kayyum Khan Jalaal

Kayyum Khan Jalaal

Kayyum Khan Jalaal

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

ہے میرے دم سے یہ تیری خوشیاں ترے توسط سے میرا غم ہے ہے ربط باہم یہی جو اپنا تو ربط یہ کیا کہیں سے کم ہے تو اپنی آنکھوں میں بھر رہی ہے حسین راتوں کے چاند تارے مری یہ آنکھیں پگھل رہی ہیں ابھی امیدوں کا ان میں نم ہے مکر گیا تو یہ بات اول اور اس پہ تیری جفا نوازی وگرنہ تیرا تو قول یہ تھا کہ ساتھ اپنا جنم جنم ہے نہ سادہ کاغذ قلم ملے تو جنوں کی تختی پہ شعر لکھے ہے سوز دل کا لہو سیاہی الم یہ تیرا مرا قلم ہے گماں کے صحرا میں خاک اڑاؤں یقیں کی تربت پہ گل چڑھاؤں ہے تیرہ بختی رقم جبیں پر مرا یہ کرنا سو ملتزم ہے تری محبت سے توبہ کر لوں یا تیرے زخموں کو تازہ کر لوں ہیں دور دیر و حرم یہاں سے شراب خانہ بس اک قدم ہے تری جدائی کی اس مسافت نے کیسے کیسے ستم ہیں ڈھائے مگر زمانہ سمجھ رہا ہے جلالؔ بیجا رہین غم ہے جلالؔ اس کو منا بھی لیتا مگر یہ کہہ کے بچھڑ گیا وہ پلٹ کے واپس کبھی نہ آنا تجھے خدایا مری قسم ہے

hai mere dam se ye teri khushiyaan tire tavassut se meraa gham hai

غزل · Ghazal

مرا یہ نغمہ بھی آہ و بکا نہ ہو جائے چہکتی بزم یہ بزم عزا نہ ہو جائے میں خواب دیکھتا رہتا ہوں بات سچ ہے مگر حقیقتاً ہی ترا سامنا نہ ہو جائے میں جس جنوں سے تجھے چاہتا ہوں ڈر ہے مجھے مرا جنون یہ وحشت سرا نہ ہو جائے تری جو شوخ ادا دل مرا لبھاتی ہے یہ شوخ ادا کہیں کافر ادا نہ ہو جائے بچھڑ کے تجھ سے یہی بارہا میں سوچتا ہوں فراق باعث ترک وفا نہ ہو جائے ابھی میں گاؤں گا نوحے فراق میں تیرے کہ جب تلک جہاں خلوت سرا نہ ہو جائے میں اس کے کوچے میں جانا تو چاہتا ہوں بہت بس ایک ڈر کہیں محشر بپا نہ ہو جائے بس اس لئے ہی کئے بند دل کے دروازے مقیم اس میں کوئی دوسرا نہ ہو جائے وہ اک خطا جو مری لذت گناہ رہی جلالؔ پھر سے کہیں وہ خطا نہ ہو جائے

miraa ye naghma bhi aah-o-bukaa na ho jaae

غزل · Ghazal

یہی تو فیصلہ اپنا دل ناکام ہونا تھا اسے قیمت لگانی تھی ہمیں نیلام ہونا تھا ہمارا کیا ہے ہم تو ہو نہیں پائے ہیں اپنے بھی تمہارا ہو گیا جس کو تمہارے نام ہونا تھا لبوں کو سی کے بیٹھے ہیں نہ رسوائی تمہاری ہو وگرنہ دل مرا ٹوٹا تھا تو کہرام ہونا تھا بھروسہ ٹھیک ہے لیکن بدلتی ایسی دنیا میں ہمیں کچھ خوف تیرا گردش ایام ہونا تھا ہماری اس تباہی میں تمہارا نام کیوں آئے ہماری آزمائش تھی ہمیں بدنام ہونا تھا خود اپنی آرزوؤں نے کیا ہے در بہ در ورنہ کسی گھر کا ہمیں روشن چراغ شام ہونا تھا

yahi to faisla apnaa dil-e-naakaam honaa thaa

غزل · Ghazal

تنہائی سے جب اکتانے لگتے ہیں دیواروں کو شعر سنانے لگتے ہیں ادھر کہیں وہ غیر سے ہنس کر ملتے ہیں اور ادھر ہم جان سے جانے لگتے ہیں حد میں رہنے کے اپنے نقصان الگ دیواروں سے سر ٹکرانے لگتے ہیں آپ نے بھی دنیا کے جیسے ہی سمجھا آپ کو بھی بس ہم دیوانے لگتے ہیں آپ کا جملہ بھول نہ جائیں اس ڈر سے آپ کے دعوے ہم دہرانے لگتے ہیں جان بوجھ کے کون سا ملتے ہیں ہم روز آپ تو بس یوں ہی گھبرانے لگتے ہیں کبھی کبھی مرنے کی جلدی ہوتی ہے سانسوں کی رفتار بڑھانے لگتے ہیں کس درجہ بیزار ہوئے وہ دنیا سے لوگ جو خود کو ہی ٹھکرانے لگتے ہیں غزل سرائی نغمہ سرائی بھول گئی اب روتے ہیں یا چلانے لگتے ہیں ویرانی تو ساتھ ہمارے چلتی ہے دیکھ کے ہم کو گل مرجھانے لگتے ہیں کیسی ہوڑ ہے دنیا میں شہرت کی جلالؔ لوگ اپنا معیار گرانے لگتے ہیں

tanhaai se jab uktaane lagte hain

غزل · Ghazal

تیرگی تو قسمت میں لفظ جاودانی ہے سو مری چراغوں سے دشمنی پرانی ہے آج ہم بچھڑ جائیں کل یہ بات سوچیں گے کون زندہ رہتا ہے کس کی جان جانی ہے عشق کا ہو میداں تو یاد یہ سبق رکھنا پہلے وار کرنا ہے پھر سپر اٹھانی ہے عاشق جنوں سے ہی یہ جمال ہے ورنہ شوخیاں ہیں بے رنگی حسن بے معانی ہے اب ترا تجسس بھی رائیگاں ہی جائے گا بات جو بتانی تھی اب نہیں بتانی ہے اس لئے کیا میں نے مستقل سفر اپنا منزلیں نہیں گرچہ خاک تو اڑانی ہے آج طعنہ زن ہیں تو طعنے مار لیتے ہیں وقت سب بتا دے گا جو بھی بد گمانی ہے نیم شب بھی راتوں میں مستقل جگے رہنا کچھ نہیں ہے بس تیرے غم کی پاسبانی ہے غلطیاں تو ہوتی ہیں یہ گناہ ہے شاید جس کو بھول جانا تھا یاد وہ زبانی ہے آج رات کر ڈالوں اپنا قتل خوابوں میں صبح ہونے سے پہلے نیند ٹوٹ جانی ہے اہل دل یہ سارے کیوں سوگوار ہوتے ہیں دل کے ٹوٹ جانے کی مختصر کہانی ہے

tirgi to qismat mein lafz-e-jaavedaani hai

غزل · Ghazal

آہیں بھی مری جاتی ہیں اور پست ہیں نالے کیا مر ہی گئے مجھ کو مرے ڈھونڈنے والے سایا کوئی کہتا ہے اکیلا مجھے پا کر جینے کی تمنا ہی تجھے مار نہ ڈالے حیران تجھے کرتی ہیں دو چار مصیبت کتنوں کو یہاں جان کے پڑ جاتے ہیں لالے میں جھوٹ کے سائے میں کھڑا ہوں تو نہیں ڈر بے موت مریں گے یہ ترے بھیجے جیالے کتنوں کو میسر وہ مرے بعد رہا پر میں کر نہ سکا خود کو کسی کے بھی حوالے آسان محبت کا سفر جان نہ پیارے پیروں میں نہیں عقل میں پڑ جاتے ہیں چھالے فاقوں پہ گزر کرتا رہا جن کے لیے تو چھینیں گے ترے منہ سے ترے حق کے نوالے اچھا نہ سہی کچھ تو برا کر کے رہوں گا اک دن تو مرے نام سے نکلیں گے رسالے اک ایسے مسیحا کی ضرورت ہے جلالؔ اب جو روح مری جسم کے ملبے سے نکالے

aahein bhi mari jaati hain aur past hain naale

Similar Poets