Kazim Aurangabadi
Kazim Aurangabadi
Kazim Aurangabadi
Ghazalغزل
مجھ آہ میں گلریز سی ہے متصل آتش
مجھ آہ میں گلریز سی ہے متصل آتش مجلس میں دکھیاروں کے لگی دل بہ دل آتش آخر کے نیں ہوگئے کویلے کف پا میں تھی رنگ حنا کی جو ترے پا بہ گل آتش سونا نہیں بھاتا مجھے جلتا ہوں جو غم میں پہلو میں کہاں دل کہ ہے زیر بغل آتش بے داغ مرے داغ جنوں بیچ نہیں گل جوں شمع مجھے دیجئے پانی بدل آتش کاظمؔ مرا انگور کے پانی سیں ہے دل سرد ساغر میں مرے لاوے کوئی کر کے حل آتش
جہاں دام پری ہے بس کہ ساز شیشہ گر پھوٹا
جہاں دام پری ہے بس کہ ساز شیشہ گر پھوٹا طبیبان جنوں کا ایک تھا باقی سو گھر پھوٹا کہاں لگ پاس دل کیجے نہایت جان رکھتا ہے جتن جتا کیا اس آبگینے کو بتر پھوٹا کیا تھا خشک حیرت نے جھرا ٹک چشم گریاں کا مرا ناسور بوئے گل سے پھر وقت سحر پھوٹا یہاں لگ پاس دل کی فکر میں کاظمؔ ہوں مستغرق اگر پتھر پہ پھوٹے چونک اوٹھوں شیشہ مگر پھوٹا





