SHAWORDS
Kazim Wasti

Kazim Wasti

Kazim Wasti

Kazim Wasti

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ye aarzu agarche baid-az-qayaas thi

یہ آرزو اگرچہ بعید از قیاس تھی چھٹنے لگی تھی دھوپ کہ دھند آس پاس تھی پھر یوں ہوا کے پی لیا اک بحر بیکراں جیسے ہمارے ہونٹوں پے برسوں کی پیاس تھی کھل نہ سکا کسی پے بھی غم کا معاملہ پر اک نگاہ تھی جو بہت غم شناس تھی اب کے ملے تو پھیر لیں نظریں کچھ اس طرح برگشتگی کی دونوں دلوں میں بھڑاس تھی گھر کے اجاڑ صحن میں ویران تھے شجر پتے گرے ہوئے تھے کہیں سوکھی گھاس تھی خوشیوں کی رہ گزر نے نہ ٹکنے ہمیں دیا بس غم کی راہ تھی جو سراپا سپاس تھی

غزل · Ghazal

is kaar-e-mohabbat kaa bas itnaa hunar jaanaa

اس کار محبت کا بس اتنا ہنر جانا اک بخیہ ادھڑ جانا اک زخم کا بھر جانا احساس رفاقت تو بس اس کے سوا کیا ہے لمحوں کا ٹھہر جانا صدیوں کا گزر جانا اک خواب کو نیندوں کے سائے سے پرے رکھنا اک یاد کا چپکے سے سینے میں اتر جانا کہتے ہیں شکست اس کو دریا میں تلاطم کی بپھری ہوئی لہروں کا ساحل پہ بکھر جانا چہرے پہ اداسی کا جو نقش نمایاں تھا پہچان لیا میں نے تم نے نہ مگر جانا سوکھے ہوئے پتوں نے ساتھ اس کا نہیں چھوڑا جس پیڑ کو لوگوں نے بے برگ و ثمر جانا اے عشق تری ہم پر یہ کیسی عنایت ہے جی اٹھنا کبھی غم سے اٹھ کر کبھی مر جانا کیسا ہے ترا کاظمؔ دستور یہ الفت کا یا پیار نہیں کرنا یا حد سے گزر جانا

غزل · Ghazal

vaaraftagi-e-shauq-e-junun darmiyaan thi

وارفتگیٔ شوق جنوں درمیان تھی ورنہ یہ داستاں بھی کوئی داستان تھی گھر سے ملا ہوا تھا کوئی گھر تو کیا ہوا دیوار اک انا کی وہ جو درمیان تھی وہ فکر تھی کہ دھیان تھا یا اک خیال تھا دل کے تخیلات کی اونچی اڑان تھی پر باندھ کے مرے مجھے مجبور کر دیا جب یہ زمین میری مرا آسمان تھی پانے کی آرزو کبھی کھونے کا رنج و غم یہ زندگی نہیں تھی کوئی امتحان تھی کاظمؔ زمیں کو اوڑھ کے چپ چاپ سو گئے اک عمر کی ہمارے بدن پر تھکان تھی

غزل · Ghazal

falak se duur kahin hai sanam zamin pe nahin

فلک سے دور کہیں ہے صنم زمیں پہ نہیں میں اس سے ملتے ہوئے کم سے کم زمیں پہ نہیں زمیں پہ بیٹھ کے لکھتا ہوں عرش کا قصہ قدم زمیں پہ ہیں میرے قلم زمیں پہ نہیں جو دیکھنا ہے ہمیں تو نظر اٹھا اپنی زمیں سے دیکھ ہمارے قدم زمیں پہ نہیں کسی کی چشم کرم ہے جو تھام رکھتی ہے کسی کی نظر کرم ہے کہ ہم زمیں پہ نہیں یہ جگنو چاند ستارے ہیں ہم رکاب مرے میں کیا کروں کہ کوئی ہم قدم زمیں پہ نہیں کٹے ہیں بازو تو تھاما ہے اپنے دانتوں سے ہزار شکر گرا ہے علم زمیں پہ نہیں میں رات خواب میں پہنچا تھا ان کے قدموں میں خدا کا شکر کہ نکلا ہے دم زمیں پہ نہیں

غزل · Ghazal

dosti yaa thi dushmani meri

دوستی یا تھی دشمنی میری زندگی سے نہیں بنی میری حال ایسا نہیں کہ بتلاؤں ایسی حالت نہ تھی کہ تھی میری ہاتھ تھاما بھی اور چھوڑ دیا جیب رستے میں کٹ گئی میری آ گیا یاد اس کو کوئی کام بیچ میں بات رہ گئی میری وہ مری زندگی کا حاصل تھا جس کو سمجھے تھے دل لگی میری یا محبت کی لغزشیں تھیں بہت یا تھی ان میں کوئی کمی میری دل کے ویران دشت و صحرا میں شور کرتی ہے خامشی میری نہ ہوئی جو کبھی کسی سے بھی وہ محبت تھی آخری میری روز لکھتا ہوں اک نئی روداد آپ بیتی ہے شاعری میری اب بھی میں تم کو یاد آتا ہوں اب بھی پڑھتی ہو شاعری میری زندگی کا مآل اتنا ہے عمر کٹنی تھی کٹ گئی میری کیا ضروری تھا ہجر کا رستہ یا اسی میں تھی بہتری میری سو رہا تھا میں خواب کو اوڑھے خواب میں آنکھ کھل گئی میری بس میں اپنا نہیں رہا کاظمؔ مجھ پے ہنستی ہے بے بسی میری

Similar Poets