Kefi
Kefi
Kefi
Ghazalغزل
کوئی شکوہ نہیں اب زندگی سے تجھے چھوڑا ہے میں نے ہاں خوشی سے نیا اک عشق ہم کیسے کریں اب ہے ڈرتا دل کسی کی بے رخی سے ہمیں ہنستے ہوئے جو دیکھتے ہیں کہاں وہ دیکھ پائے ہیں سہی سے تری یادوں میں ہوں میں قید کب سے رہا کر دے مجھے اس زندگی سے مرے حالات مجھ سے کہہ رہے ہیں محبت پھر نہ کرنا تو کسی سے
koi shikva nahin ab zindagi se
1 views
خوابوں میں بھی پانا اسے آسان نہیں ہے پر تھوڑی سی کوشش میں بھی نقصان نہیں ہے مانا کہ مری زندگی آسان نہیں ہے ہے کون یہاں وہ جو پریشان نہیں ہے ہم نے تو لہو سے لکھی اس کے لیے غزلیں پھر بھی اسے لگتا ہیں ابھی جان نہیں ہے شاید یہ مری زندگی کا آخری پل ہے جس میں کوئی خواہش کوئی ارمان نہیں ہے گیتا کبھی قرآن کی کیوں کھاتے ہیں قسمیں جن کا کوئی مذہب کوئی ایمان نہیں ہے قربانی ترنگے کے لیے سب کی برابر اس میں کوئی ہندو یا مسلمان نہیں ہے
khvaabon mein bhi paanaa use aasaan nahin hai
1 views
کسی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ہے بتاؤں کیا تمہیں کیا ہو گیا ہے نہیں بنتا یہاں کوئی بھی اپنا مجھے کیوں یہ بھروسہ ہو گیا ہے اسے مل کر مجھے کیسی خوشی ہے مرے غم میں وہ آدھا ہو گیا ہے میں اتنے پیار سے اس سے ملا کیوں کسی کا تھا جو میرا ہو گیا ہے بھلا دوں گا اسے اگلے جنم تک مرا خود سے یہ وعدہ ہو گیا ہے جو روتا تھا مرے زخموں پہ یارو وہ ساتھی اب پرایا ہو گیا ہے جسے دفنا کر آیا تھا میں کیفیؔ وہی اب مجھ میں زندہ ہو گیا ہے
kisi ke saath jhagDaa ho gayaa hai
1 views





