Khaki Hyderabadi
Khaki Hyderabadi
Khaki Hyderabadi
Ghazalغزل
وہ کام کیجئے جو پسند آئے چار کے لمحات مستعار نہیں اعتبار کے دل لیجے جان لیجے ستم کیجئے مگر طعنے ہیں ناگوار ہمیں بار بار کے آئیں نہ آئیں آپ کو اب اختیار ہے ہم تو چلے ہیں کاٹ کے دن انتظار کے جو کچھ ہیں داغ آج رخ ماہتاب پر وہ نقش تو نہیں ہیں دل داغدار کے پختہ اگر ہوں اپنے عزائم تو جان من عنوان ہی بدل دیں غم روزگار کے شوق شکار ہو تو بنیں ماہر شکار ورنہ شکار ہوں گے بجائے شکار کے لا ساقیا بزود پلا اب شراب ناب ورنہ گزر نہ جائیں کہیں دن بہار کے خاکیؔ ہر ایک شعر مرصع ہے اس لئے حاسد بھی داد دیں گے یقیناً پکار کے
vo kaam kijiye jo pasand aae chaar ke
چاند نکلا ہے رات آئی ہے تم بھی آؤ تو کیا برائی ہے آنکھ ساقی نے پھر ملائی ہے پھر سے توبہ کی موت آئی ہے ہوش آنے لگا ہے پھر مجھ کو چشم مے گوں تری دہائی ہے زاہدوں نے بھی آج مے پی لی کیونکہ کالی گھٹا جو چھائی ہے عشق صادق نے جان دے دے کر حسن کی زندگی بڑھائی ہے ذرے ذرے میں حسن ہے لیکن عشق کی چار سو خدائی ہے دل میں جب تک ہے بات اپنی ہے منہ سے نکلی تو پھر پرائی ہے جان لے جاؤ غم نہ لے جاؤ عمر بھر کی یہی کمائی ہے خود سے خاکیؔ نہ تیرے پاس آیا خواہش دید کھینچ لائی ہے
chaand niklaa hai raat aai hai
نہ تو مے سے نہ جام سے خم سے بن گئی بات اک تصادم سے تم مجھے بھی کبھی صدا دو گے یہ توقع نہ تھی کبھی تم سے کچھ نہ کچھ داد مل گئی اس کو پڑھتا ہے جو غزل ترنم سے مرنے والا بھی بچ گیا آخر آپ کے صرف اک تبسم سے کیا تمنا کرے وہ ساحل کی کھیلتا ہے جو خود تلاطم سے عشق کے زہر کا جو عادی ہو خوف کیا اس کو زہر کژدم سے جن کو حاصل تھیں دائمی خوشیاں کس لئے آج ہیں وہ گم سم سے موت سے پہلے مر چکے کتنے خوف سے یا کسی توہم سے غرق بیڑے ہوئے ہیں باطل کے عزم خاکیؔ کے جوش قلزم سے
na to mai se na jaam se khum se
آپ کے رخسار انگارے نظر آنے لگے اشک بھی ٹوٹے ہوئے تارے نظر آنے لگے لالہ و گل ہیں یقیناً خون ناحق کی دلیل جس طرف دیکھو جگر پارے نظر آنے لگے کل مجھے کانٹوں سے نفرت گل سے الفت تھی مگر آج کانٹے بھی مجھے پیارے نظر آنے لگے ان کے روشن دل سے میرا دل منور ہو گیا اس لئے عیب و ہنر سارے نظر آنے لگے آ رہا ہے اس طرف شاید کوئی سیمیں بدن کیوں کہ اب پر کیف نظارے نظر آنے لگے وہ بھی حیراں ہو گئے اشک مسلسل سے مرے خون کے جب ان کو فوارے نظر آنے لگے بحر ظلمت پر ضیا ہونے کو ہے خاکیؔ تبھی تیرگی میں نور کے دھارے نظر آنے لگے
aap ke rukhsaar angaare nazar aane lage
خوشی کے ساتھ ابھی غم کا نام باقی ہے تبھی تو سلسلۂ صبح و شام باقی ہے نہ جانے کتنے ہوئے قتل تیرے ابرو سے مزید اور بھی کیا قتل عام باقی ہے ہماری یاد جو پیچھا کرے سمجھ لینا تمہارے دل میں وفا کا مقام باقی ہے نہ روک مطرب گلفام ساز کو اپنے ابھی تو گردش مینا و جام باقی ہے ذرا سی پی کے بہکتے ہو کس لئے رندو ابھی شراب ابھی دور جام باقی ہے فراق یار میں اشکوں کا میری مژگاں پر خدا کے فضل سے رقص دوام باقی ہے چمن کے غنچہ و گل میں بھی آج تک خاکیؔ وہی تبسم مست خرام باقی ہے
khushi ke saath abhi gham kaa naam baaqi hai
چشم غضب جو ان کی کرم میں بدل گئی آئی ہوئی ہر ایک بلا خود ہی ٹل گئی تیرا کرم نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے یہ لاکھوں کی بات کٹ کے مری بات چل گئی داروئے چارہ گر نہ ہوئی کارگر مگر دیدار یار ہی سے طبیعت سنبھل گئی امید التفات میں ہر دن گزر گیا تکمیل انتظار میں ہر رات ڈھل گئی پا بوسیوں کی مجھ کو سزا تم نے دی مگر کیا کر لیا صبا کا جو ہر شے مسل گئی تو نے بلند مجھ کو کیا جب جہان میں دنیا حسد کی آگ میں اک لخت جل گئی خاکیؔ وہ دو گھڑی کی خوشی لے کے کیا کرے موج صبا کی طرح جو دل سے نکل گئی
chashm-e-ghazab jo un ki karam mein badal gai





