Khaleel Ahmad
Khaleel Ahmad
Khaleel Ahmad
Ghazalغزل
ujDi hui aankhon mein sitaare nahin milte
اجڑی ہوئی آنکھوں میں ستارے نہیں ملتے دریائے محبت کے کنارے نہیں ملتے اس دور میں اطفال کو بہلانے کی خاطر بارود تو ملتا ہے غبارے نہیں ملتے مطلب ہو تو ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ہمدرد مشکل میں کبھی یار پیارے نہیں ملتے بیٹھے ہیں کوئی قاصد یار آئے ادھر بھی مدت ہوئی مکتوب تمہارے نہیں ملتے بہتا ہے لہو شہر کی ہر ایک گلی میں آنکھوں کو گلستاں کے نظارے نہیں ملتے اک درد کا مارا مرے اندر ہی چھپا ہے اور اس کو کہیں درد کے مارے نہیں ملتے
kabhi ghamgin hotaa huun kabhi main muskuraataa huun
کبھی غمگین ہوتا ہوں کبھی میں مسکراتا ہوں تمہیں جب یاد کرتا ہوں تو خود کو بھول جاتا ہوں تمہیں تو دشمنوں کی دشمنی نے مار ڈالا ہے مجھے دیکھو میں اپنے دوستوں سے زخم کھاتا ہوں کبھی فرصت ملے تو دیکھ لینا اک نظر آ کر تمہاری یاد میں بجھتی ہوئی شمعیں جلاتا ہوں میں چلتا جا رہا ہوں آبلہ پا شوق منزل میں کبھی کوئی شعر کہتا ہوں کبھی کچھ گنگناتا ہوں خلیلؔ اب میری آنکھوں میں سنہرے خواب مت بونا میں پہلے ہی دکھوں کی کھیتیاں تنہا اگاتا ہوں
fasil-e-shahr pe likkhi hai daastaan meri
فصیل شہر پہ لکھی ہے داستاں میری میں کیسے بات کروں قید ہے زباں میری محبتوں کے بھی یہ سلسلے عجیب سے ہیں جدا ہے مجھ سے مگر پھر بھی ہے وہ جاں میری میں اپنے شہر میں رہ کر بھی اجنبی سا رہا کہ کوئی سنتا نہیں بات بھی یہاں میری جو جان لیتا تھا اندر کا حال آنکھوں سے اسے سنائی نہیں دیتیں سسکیاں میری خدایا تیرا کرم ہے کہ مجھ کو عزت دی وگرنہ اتنی بھی اوقات تھی کہاں میری
andheri shab hai miri jaan zaraa saa soch to le
اندھیری شب ہے مری جاں ذرا سا سوچ تو لے بجھا چراغ کبھی کام آ ہی جاتا ہے کسی کا نام پکاریں کسی کو یاد کریں ہمارے لب پہ ترا نام آ ہی جاتا ہے دواۓ درد جگر جب بھی مانگتا ہوں میں تو میرے سامنے اک جام آ ہی جاتا ہے خطائیں شہر کا حاکم کرے یا اور کوئی مگر غریب پہ الزام آ ہی جاتا ہے چلے تھے ہم کہ ابھی ابتدائے الفت ہے کسے خبر تھی کہ انجام آ ہی جاتا ہے جو مجھ پہ پہرے لگاتا ہے اس کو علم نہیں وہ شہر دل میں سر عام آ ہی جاتا ہے تجھے بھلانے کی کوشش تو کر رہا ہوں خلیلؔ خیال تیرا سر شام آ ہی جاتا ہے
sahraa to paar kar liyaa dariyaa bhi paar kar
صحرا تو پار کر لیا دریا بھی پار کر کس نے کہا تھا تجھ سے کہ عشق اختیار کر میں نے کہا تھا شہر میں کئی با وفا بھی ہیں یہ تو نہیں کہا تھا کہ جا اعتبار کر بجھتا ہوا چراغ یہ فریاد کر گیا نفرت ہوا سے اور چراغوں سے پیار کر برسوں سے اک مقام پہ ٹھہرا ہوں میں خلیلؔ اس نے کہا تھا آؤں گا تو انتظار کر
hazaaron log hain apni tarah ke
ہزاروں لوگ ہیں اپنی طرح کے ستم جو جھیلتے ہیں مسکرا کے کہاں تاریکیوں میں کھو گئے ہو ہمارے ہاتھ پر شمع جلا کے ذرا بیٹھو ہمارا حال دیکھو کدھر جاتے ہو تم یہ گل کھلا کے ترے بارے میں یہ سوچا نہیں تھا کہ تو بھی چھوڑ دے گا آزما کے چمن میں تم خلیلؔ آئے نہیں ہو مجھے سننے پڑے شکوے صبا کے





