SHAWORDS
Khaleel Farhat Karanjavi

Khaleel Farhat Karanjavi

Khaleel Farhat Karanjavi

Khaleel Farhat Karanjavi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

vafaa naa-aashnaaon mein vafaa ki justuju kab tak

وفا نا آشناؤں میں وفا کی جستجو کب تک دل سادہ مجھے رسوا کرے گا کو بہ کو کب تک ہوا ہے چاک جن ہاتھوں سے امیدوں کا پیراہن انہیں ہاتھوں کو ہم دیتے رہیں داد رفو کب تک بہر صورت دعاؤں پر مقدم ہے عمل زاہد خمیدہ سر کہاں تک ہاتھ مصروف وضو کب تک ہمیں اپنا مقدر اپنے ہاتھوں سے بنانا ہے کہاں تک خود فراموشی فریب آرزو کب تک بہاروں کو ترس جائے گا گلشن ہم نہ کہتے تھے خزاں پروردہ ہاتھوں میں جہان رنگ و بو کب تک کہاں تک عصمتیں نیلام ہوں گی بے سہاروں کی بہے گا شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو کب تک زمیں پھٹ جائے یا سر پر بلائے آسماں ٹوٹے زباں بھی کھولیے فرحتؔ نظر سے گفتگو کب تک

غزل · Ghazal

aur kab tak khun-fishaan mausam kaa tevar dekhnaa

اور کب تک خوں فشاں موسم کا تیور دیکھنا آگ برساتی نظر ہاتھوں میں خنجر دیکھنا چھین کر آنکھوں سے بینائی نہ لے جائے کہیں ہر طرف جلتی ہوئی لاشوں کا منظر دیکھنا آگ جب پھیلی تو ہمسائے کا گھر بھی جل گیا اس نے چاہا تھا مرا جلتا ہوا گھر دیکھنا اب کف افسوس کیا ملتا ہے ہم کہتے نہ تھے پاؤں پھیلانے سے پہلے اپنی چادر دیکھنا اب تو کنکر بھی گہر کے دام میں بکنے لگے کوڑیوں کے مول اب لعل و جواہر دیکھنا ماہ و انجم ہو چکے تسخیر فرحتؔ اب ذرا ذات کے اندھے کنویں میں بھی اتر کر دیکھنا

غزل · Ghazal

koshish-e-tark-e-taalluq ne rulaayaa hai bahut

کوشش ترک تعلق نے رلایا ہے بہت بھولنا چاہا جب اس کو یاد آیا ہے بہت ہے عمل کے بعد ہی دست دعا کا مرحلہ ہم نے اے واعظ خدا کو آزمایا ہے بہت اک تبسم کے لئے سو بار آنکھیں نم ہوئیں زندگی اے زندگی تو نے رلایا ہے بہت دوستوں نے جب ہمیں لوٹا وفا کے نام پر دشمنوں کی دشمنی پر پیار آیا ہے بہت سر اٹھا کر چلچلاتی دھوپ میں کیجے سفر سر جھکا لیں تو گھنے پیڑوں کا سایا ہے بہت ڈھونڈنے جائیں سکون دل کہاں فرحتؔ کہ اب وحشتوں کا ہر گلی کوچے میں سایا ہے بہت

غزل · Ghazal

dil se mire tanhaai ki shiddat nahin jaati

دل سے مرے تنہائی کی شدت نہیں جاتی اب تو بھی چلا آئے تو وحشت نہیں جاتی اس دور کی تعلیم کا معیار عجب ہے تعلیم تو آتی ہے جہالت نہیں جاتی کیا سوچ کے امید وفا باندھی تھی تم سے اک عمر ہوئی دل کی ندامت نہیں جاتی مفلس بھی تو خوددار ہوا کرتے ہیں لوگو غربت میں بھی انساں کی شرافت نہیں جاتی لے جاتی ہیں اب تک بھی مری نیند چرا کر اب تک بھی ان آنکھوں کی شرارت نہیں جاتی دے دیتا ہے اللہ مجھے حسب ضرورت اب لے کے کسی در پہ ضرورت نہیں جاتی سو بار تری جان پہ بن آئی ہے فرحتؔ پھر بھی تری حق گوئی کی عادت نہیں جاتی

غزل · Ghazal

saamne sab mire hamdam-o-ham-navaa sab magar pusht par vaar karte hue

سامنے سب مرے ہمدم و ہم نوا سب مگر پشت پر وار کرتے ہوئے دن میں پھولوں سے بھی نرم لہجہ مگر رات راہوں کو پر خار کرتے ہوئے صاف گوئی نے غم کے سوا کیا دیا پھر بھی ہم اپنی فطرت سے مجبور ہیں جو قصیدہ نویسی میں ماہر تھے وہ خوش ہیں توصیف سرکار کرتے ہوئے اپنے اپنے سفر پر ہیں کب سے رواں پھر بھی کیا بات ہے دونوں تھکتے نہیں آپ راہوں میں کانٹے بچھاتے ہوئے ہم زمینوں کو گلزار کرتے ہوئے جب ترنم کی میزان میں فن تلے اہل فن کے لئے مشورہ ہے مرا سنگ ادراک سے اپنا سر پھوڑ لیں آپؐ معیار معیار کرتے ہوئے اپنی اپنی ضرورت انہیں کھینچ کر پھر قصیدوں کے بازار میں لے گئی میرے احباب کچھ دور تک ساتھ تھے اپنے لہجوں کو تلوار کرتے ہوئے ایک پل کی خوشی بھی میسر نہیں زندگی کی بخیلوں کی خیرات ہے کٹ گئی زندگی یوں تو فرحتؔ مگر ایک اک سانس دشوار کرتے ہوئے

غزل · Ghazal

nazar ki ruuh ki dil ki saubatein bhi gaiin

نظر کی روح کی دل کی صعوبتیں بھی گئیں گیا شباب تو وہ ساری الجھنیں بھی گئیں گئی جوانی تو آئی شعور کی دولت قدم قدم پہ زمانے سے رنجشیں بھی گئیں شب وصال کا ارماں نہ فکر شام الم وہ کاروبار جنوں کی نوازشیں بھی گئیں سفید بال ہوئے تانک جھانک میں حائل کہاں کا شوق نظارہ بصارتیں بھی گئیں جنون عشق بھی رخصت ہوا شباب کے ساتھ وہ رتجگوں کی پرانی روایتیں بھی گئیں گناہ حشر میں ٹھہری گناہ کی حسرت گناہ بھی نہ کئے اور جنتیں بھی گئیں خیال‌ گیسوئے جاناں سفید ریش میں گم وہ چشم و لب کے تصور کی لذتیں بھی گئیں بتوں کی چاہ نے کافر بنا دیا تھا ہمیں خدا کا شکر ہے فرحتؔ وہ عادتیں بھی گئیں

Similar Poets