
Khaleequzzaman Nusrat
Khaleequzzaman Nusrat
Khaleequzzaman Nusrat
Ghazalغزل
ارباب اقتدار سے میرا سوال ہے یہ دور ارتقا ہے کہ دور زوال ہے جب جب لگے ہے آگ ہمارے ہی گھر جلیں یہ بات اتفاق ہے یا گہری چال کیسی منافقوں کی ہے سازش نہ پوچھئے ٹوٹے نہ جو وہ ریشمی دھاگوں کا جال ہے ایسے میں خواب آنکھوں میں کوئی سجائے کیا وہ حبس ہے کہ چین سے سونا محال ہے ہم تو عذاب تشنہ لبی سے ہیں نیم جاں گزری ہے جانے کیا کہ سمندر نڈھال ہے حالات و کیفیات کی تصویر کھینچنا نصرتؔ نہیں ترا یہ سخن کا کمال ہے
arbaab-e-iqtidaar se meraa savaal hai
3 views
تعبیر میں ڈھل کر وہ اثر کرنے لگا ہے وہ خواب مری آنکھ کو تر کرنے لگا ہے سوچا تھا کہ پڑھ لکھ کے سمجھ دار بنے گا دکھ اس کا ہے وہ زیر زبر کرنے لگا ہے میں نے کہا تقدیر بدلنے کی ادا سیکھ وہ اپنی ہتھیلی پہ نظر کرنے لگا ہے اے میرے سخن ساز ترا طرز تکلم دستک کی طرح دل پر اثر کرنے لگا ہے سچ ہے کہ سبھی چہرے نہیں ہوتے حقیقی خود عکس مرا مجھ سے حذر کرنے لگا ہے میں نے جو کہا مجھ سے کوئی کام تو لے لے وہ سر کو ادھر اور ادھر کرنے لگا ہے یاران منافق کا یہ کہنا ہے کہ نصرتؔ گمراہ مجھے میرا ہنر کرنے لگا ہے
taa۔bir mein Dhal kar vo asar karne lagaa hai
3 views
میں تیرا کوئی نہیں پھر بھی پوچھ بیٹھا ہوں یہ آنسوؤں کی چمک ہے کہ چشم تر میں چراغ ہر ایک شخص کو ملتا کہاں ہے روشن ہاتھ کہ رب جلاتا نہیں دست بے ہنر میں چراغ تو ہم بھی رات کے جنگل میں سو گئے ہوتے نہ بنتے پاؤں کے چھالے اگر سفر میں چراغ میں روشنی کے تعاقب میں کچھ نہ دیکھ سکا لگی وہ ٹھیس کہ دھندلا گئے نظر میں چراغ جلا کے چھوڑ دیا کس نے بہتے دریا میں نہ یہ بھی سوچا کہ آ سکتا ہے بھنور میں چراغ تمہارا شہر مرے گاؤں سے ہے کتنا الگ یہاں گلوں کی جگہ کھلتے ہیں شجر میں چراغ دل و دماغ میں بھرنے لگا ہے رات کا ڈر جلانا بھول گئے لوگ رہ گزر میں چراغ
main teraa koi nahin phir bhi puchh baiThaa huun
3 views
سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے آج بھی ہاتھ کی ریکھا کو مقدر سمجھیں بلیاں کاٹ لیں رستے کو تو ڈر لگتا ہے بول کے سچ ہی عدالت میں ہوئی رسوائی اب تو سچ یہ ہے ہمیں سچ سے بھی ڈر لگتا ہے
surkhiyaan paDh ke in akhbaaron ki Dar lagtaa hai
2 views
آدمی انسان سے حیوان کیسے ہو گیا ایک زندہ ملک قبرستان کیسے ہو گیا آگ دینے والے ہی آئے ہیں مجھ سے پوچھنے ایک پل میں شہر یہ ویران کیسے ہو گیا کون ہے وہ میرے حق میں جو دعائیں کرتا ہے سخت مشکل مرحلہ آسان کیسے ہو گیا اس نے سچ کہنے کی کھائی تھی قسم ہر حال میں دن کا سورج رات کا مہمان کیسے ہو گیا یوں تو کہنے کو یہاں گنگا بھی ہے جمنا بھی ہے نذر آتش پھر یہ ہندوستان کیسے ہو گیا ذہن میں جو ناچتی ہے ایک کرن بے نام سی بند کمرے میں یہ روشن دان کیسے ہو گیا ویسے نصرتؔ پائی تھی ورثے میں تیغ بے نیام خوف ایسی قوم کا عنوان کیسے ہو گیا
aadmi insaan se haivaan kaise ho gayaa
2 views
ہوتا بھی ہے ایسا کبھی ایسا نہیں ہوتا ہم جس سے ملیں راہ میں اچھا نہیں ہوتا پانی میں اگر دم ہو بنا لیتا ہے رستہ تالاب کے جیسا کہیں ٹھہرا نہیں ہوتا پتے جو اڑے پھرتے ہیں بے ٹھور ٹھکانے شاخوں سے لگے رہتے تو ایسا نہیں ہوتا تا عمر کمانے سے کسے ملتی ہے فرصت بوڑھا بھی مرے دور کا بوڑھا نہیں ہوتا ہم ڈوب کے ابھرے تو یہ اندازہ ہوا ہے ہمت سے بڑا کوئی سہارا نہیں ہوتا جس پیڑ پہ سانپوں کا گزر ہوتا ہے نصرتؔ اس پیڑ پہ چڑیوں کا بسیرا نہیں ہوتا
hotaa bhi hai aisaa kabhi aisaa nahin hotaa
2 views





