Khaleequzzaman Sahar
حقیقتاً تو وہ احسان کر رہا ہے بہت جو خامیوں پہ مری مجھ کو ٹوکتا ہے بہت نہیں ہیں بے خبر اک دوسرے کے حال سے ہم ہمارے درمیاں اتنا بھی رابطہ ہے بہت کوئی دکھائے نہ اب عکس دوسرا ہم کو ہمارے سامنے اپنا ہی آئنہ ہے بہت یہ بات الگ کہ نئی قدر کا ہے دل دادہ روایتوں سے بھی لیکن وہ آشنا ہے بہت فسانہ میرا سحرؔ کیا پسند آئے انہیں حقیقتوں نے اسے تلخ کر دیا ہے بہت
haqiqatan to vo ehsaan kar rahaa hai bahut