Khalid Mahmood Amar
Khalid Mahmood Amar
Khalid Mahmood Amar
Ghazalغزل
کوئی درپیش جب سفر آیا تیرا چہرہ بھی بام پر آیا لگ کے چلمن سے جھانکنا باہر یاد وہ ادھ کھلا سا در آیا میرے صیاد کو بھی حیرت ہے کیوں نہ میں بھی لہو میں تر آیا دیکھ سارے جہاں کو ٹھکرا کر تیرا دیوانہ تیرے گھر آیا تیرے در سے شفا ملے سب کو اک عمرؔ ہی شکستہ تر آیا
koi darpesh jab safar aayaa
درد دل لا دوا نہیں ہوتا ہاں مگر حوصلہ نہیں ہوتا غم خوشی رنگ زندگی کے ہیں رات بن دن نیا نہیں ہوتا روشنی سے چھپاتے ہیں چہرے جب اندھیرا ذرا نہیں ہوتا چند یادیں ہیں کچھ جواں سوچیں کون تنہا سدا نہیں ہوتا ٹھہرے پانی تو گدلے ہوتے ہیں کیوں کہوں وہ جدا نہیں ہوتا رہتے ہیں ایک گھر میں ہی لیکن مدتوں سامنا نہیں ہوتا مسکراؤں تو سب عمرؔ ہمدم غم میں اک آشنا نہیں ہوتا
dard-e-dil laa-davaa nahin hotaa
خود سے بھی وہ ڈرتا ہوگا وہ بھی میرے جیسا ہوگا زخم جگر سے جو ٹپکا ہے اس کی آنکھ سے بہتا ہوگا سوچوں میں آئے چپکے سے ننگے پاؤں چلتا ہوگا در پہ دستک دینے والا اس کی یاد کا جھونکا ہوگا مہک اٹھا ہے میرا بدن بھی خوشبو میں وہ رہتا ہوگا سطح آب پہ اک چہرہ ہے لہروں میں وہ رہتا ہوگا اب تو خواب جزیروں میں وہ یاد کے کنکر چنتا ہوگا کھویا کھویا سا خود میں ہی لوگوں سے وہ ملتا ہوگا دیکھ کے گرتے پتوں کو وہ پہروں بیٹھ کے روتا ہوگا دشت غم کے سناٹے میں وہ بھی تنہا تنہا ہوگا دل میں چھپا کر میری یادیں پہروں نظمیں لکھتا ہوگا مست ہواؤں سے ہی عمرؔ وہ میرے نغمے سنتا ہوگا
khud se bhi vo Dartaa hogaa





