Khalid Majeed
وقت یہ کیسا آیا ہے قد سے اونچا سایہ ہے کیا کیا ہم نے کھویا ہے کیا کیا ہم نے پایا ہے الٹی سیدھی باتوں میں سارا وقت گنوایا ہے کتنی باتیں بھولیں تو یاد ہمیں کچھ آیا ہے بے پر اڑنے لگے ہیں لوگ ایشور تیری مایا ہے کیسے کیسے لوگوں کو ہم نے ننگا پاپا ہے تنہا تنہا کمرے میں سناٹا اپنایا ہے دیکھ کے سرخ گلابوں کو وہ چہرہ یاد آیا ہے
vaqt ye kaisaa aaya hai