Khalid Naiyer
Khalid Naiyer
Khalid Naiyer
Ghazalغزل
آنکھ کو نمناک کر جاتا ہے اکثر ان دنوں آپ سے مل کر بچھڑ جانے کا منظر ان دنوں ہم اسیر زلف جاناں ہجر کے مارے سہی روشنی کرتے ہیں اکثر دل جلا کر ان دنوں ساس کے طعنوں سے جل کر مر گئی کوئی بہو تذکرہ مفلس کی بیٹی کا ہے گھر گھر ان دنوں کچھ تمہاری بے وفائی سے بھی دل گھائل ہوا کچھ تو اپنا بھی ہے برگشتہ مقدر ان دنوں کانچ کے محلوں میں وہ رہتے تو ہیں نیرؔ مگر اپنے ہاتھوں میں لئے پھرتے ہیں پتھر ان دنوں
aankh ko namnaak kar jaataa hai aksar in dinon
المیہ ایسا بھی ہو جاتا ہے منزل کے قریب ڈوب جاتا ہے سفینہ آ کے ساحل کے قریب ہم ہی سلجھائیں گے آخر مشکلوں کی گتھیاں ہاں ہمیں لے جائیے مشکل سے مشکل کے قریب ہر گھڑی ہر لمحہ ہر پل سوچتا رہتا ہوں میں دل ہے غم کے پاس یا غم ہے مرے دل کے قریب موت نے بھی رشک سے دیکھا تھا میرے عزم کو کتنی بے باکی سے میں بیٹھا تھا قاتل کے قریب آبلہ پائی سے نیرؔ میں ہراساں تو نہیں رفتہ رفتہ آ ہی جاؤں گا میں منزل کے قریب
alamiya aisaa bhi ho jaataa hai manzil ke qarib
روشنی کے زخم کھانا کیا یہی ہے زندگی تیرگی میں دل جلانا کیا یہی ہے زندگی ہجر کی راتوں میں اکثر اہتمام آرزو خواب پلکوں پر سجانا کیا یہی ہے زندگی حسرتوں کی آگ میں جلنا مسلسل عشق میں پتھروں پر گل کھلانا کیا یہی ہے زندگی سر ہتھیلی پر لئے گھر سے نکلنا روز و شب موت سے آنکھیں ملانا کیا یہی ہے زندگی بے کسی لاچارگی افسردگی نیرؔ کبھی پاس آنا روٹھ جانا کیا یہی ہے زندگی
raushni ke zakhm khaanaa kyaa yahi hai zindagi
پاس آ کر دفعتاً جب دور ہو جائے کوئی ہائے وہ عالم کہ یوں رنجور ہو جائے کوئی خودکشی کے واسطے گھر سے نکل پڑتا ہے وہ جب کبھی حالات سے مجبور ہو جائے کوئی یہ علامت اس کے اپنے ظرف کی پہچان ہے بھول کر اوقات جب مغرور ہو جائے کوئی یہ سراپا گل بدن تو مے کدہ جیسا لگے دیکھ کر آنکھیں تری مخمور ہو جائے کوئی یہ تو اے نیرؔ کسی بھی معجزے سے کم نہیں دیکھتے ہی دیکھتے مشہور ہو جائے کوئی
paas aa kar dafatan jab duur ho jaae koi





