KHalid Naqaash
KHalid Naqaash
KHalid Naqaash
Ghazalغزل
جب سے وہ آ گئے مرے گھر میں روشنی بھر گئی مقدر میں لوٹ آیا ہوں میں کنارے سے پھینک کر تشنگی سمندر میں کس کی خوشبو رہی سر رستہ کون چلتا رہا برابر میں اک خلش تھی جو میرے دل میں رہی ایک سودا تھا جو رہا سر میں تجھ کو کھویا تو پھر کسی صورت زندگی آ سکی نہ محور میں ایسا لگتا ہے آج کا انسان لوٹ آیا ہے عہد پتھر میں
jab se vo aa gae mire ghar mein
پیار کی مشعلیں جلانے سے کٹ گئے ہم بھرے زمانے سے ان کو فرصت کبھی نہیں ملتی میرے سر تہمتیں لگانے سے کوئی نیندیں اٹھا کے لے جائے ہر نئی شب مرے سرہانے سے ذات پھیلی ہے اپنی صدیوں پر حرف کی آبرو بچانے سے چاہ کر بھی بچا نہیں پائے شیشۂ دل کو ٹوٹ جانے سے ہر طرف روشنی ہوئی نقاشؔ ایک احساس کے جگانے سے
pyaar ki mashalein jalaane se
تجھ کو اتنا بتانے آیا ہوں تیری قسمت کا میں ستارہ ہوں اک نظر مجھ کو غور سے دیکھو کیسی خواہش ہوں کیا تمنا ہوں میرا ہر نقش ہے بقا تیری تیری پہچان تیرا چہرہ ہوں مجھ میں آباد ایک دنیا ہے دیکھنے کو مگر میں تنہا ہوں صورت دیپ ایک مدت سے رات کی تیرگی میں جلتا ہوں پھیلنے لگتا ہوں میں اور نقاشؔ خود میں میں جس قدر سمٹتا ہوں
tujh ko itnaa bataane aaya huun
بس اتنا حوصلہ رکھا ہوا ہے ترا غم جا بجا رکھا ہوا ہے سحر کی آس میں دیوار جاں پر سلگتا سا دیا رکھا ہوا ہے بس اپنی ذات کو شہر سخن میں ہنر سے آشنا رکھا ہوا ہے غم دنیا کو رکھا ہے علیحدہ ترے غم کو جدا رکھا ہوا ہے تری خواہش ترے غم کے علاوہ دل مضطر میں کیا رکھا ہوا ہے کہ ہم نے ابتدائے عشق کو بھی مثال انتہا رکھا ہوا ہے
bas itnaa hausla rakkhaa huaa hai
جو تیری راہ کا ذرہ نہیں تھا تو میں خود اس قدر اونچا نہیں تھا تجھے کھو کر ہوا ہوں جس قدر میں کبھی میں اس قدر تنہا نہیں تھا زمانہ کس لیے خیرات دیتا کسی سائل کا میں کاسہ نہیں تھا تو پھر یہ زہر کیسا جسم و جاں میں اگر زخم جگر گہرا نہیں تھا تمہارے درد نے جیسا بنایا میں اس سے پیشتر ایسا نہیں تھا میں کیسے منزلیں پاتا یہ نقاشؔ جہاں میں تھا کوئی رستہ نہیں تھا
jo teri raah kaa zarra nahin thaa





