SHAWORDS
Khalid Shirazi

Khalid Shirazi

Khalid Shirazi

Khalid Shirazi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

نہیں ضرور کہ تکمیل مدعا دیکھیں مگر ہے جی میں کہ خون جگر بہا دیکھیں نقوش پا جو ہوئے جا رہے ہیں گرد انہیں تھکاوٹوں سے شرابور لوگ کیا دیکھیں یہ کیا سفر ہے کہ سیدھے سپاٹ رستے ہیں کبھی تو ہم کوئی پر پیچ راستہ دیکھیں فصیل شب سے ادھر دے رہا ہو کوئی صدا حصار خواب میں لیکن مجھے گھرا دیکھیں فضا میں تیر رہے ہوں ہرے بھرے چہرے خود اپنے چہرے کو لیکن بجھا ہوا دیکھیں سفر میں شل ہوئے جاتے ہوں دھوپ کے پاؤں افق کی آنکھ سے بہتی ہوئی حنا دیکھیں طلوع مہر سے پہلے بس ایک پل کے لیے کسی دیے کی طرح ہم بھی جھلملا دیکھیں یہ دن بھی خالدؔ شیراز دیکھنے تھے ہمیں نظر اٹھائیں تو پت جھڑ کا سلسلہ دیکھیں

nahin zarur ki takmil-e-muddaaa dekhein

غزل · Ghazal

ہر نقش ہوا ہو کے بکھر جائے گا آخر خالدؔ ترا احساس بھی مر جائے گا آخر مٹ جائے گا خواہش کا نشاں موت کے ہاتھوں یہ سانپ بھی سینے سے اتر جائے گا آخر دن جس کے لئے رات بڑے کرب میں کاٹی سایوں کے تعاقب میں گزر جائے گا آخر میں خوف ہوں بیٹھا ہوں کمیں گاہ فنا میں تو بچ کے مری زد سے کدھر جائے گا آخر جو سائے کے مانند رواں ہے مرے ہم راہ وہ شخص بھی تنہا مجھے کر جائے گا آخر

har naqsh havaa ho ke bikhar jaaegaa aakhir

غزل · Ghazal

جب شاخ گل چٹخ کے گری راز کی طرح خوشبو کا دل لرز اٹھا آواز کی طرح وہ دھول جس کو دی نہ کسی شہر نے اماں لپٹی ہوئی ہے پاؤں سے دم ساز کی طرح اتنا حواس گیر تھا سورج کا اضطراب منظر بدل گئے ترے انداز کی طرح پاؤں تلے زمیں نہیں لیکن خلاؤں سے رشتہ ملا رہا ہوں رگ ساز کی طرح اس منجمد سکوت میں خالدؔ مری صدا پتھرا گئی ہے حسرت پرواز کی طرح

jab shaakh-e-gul chaTakh ke giri raaz ki tarah

غزل · Ghazal

کہتی ہوئی یہ مجھ سے ہوائے سحر گئی دشت طلب میں شبنم احساس مر گئی رکھا نہ تھا قدم ابھی دشت سکوت میں آواز میری اپنے ہی سائے سے ڈر گئی میں اس کا نوحہ بن کے اندھیرے میں گھل گیا وہ اک کرن جو میرے لئے در بدر گئی میں لکھ رہا تھا پھول کی پتی پہ تیرا نام کانٹے کی نوک سینۂ گل میں اتر گئی محفل میں رات نت نئے چہروں کے شور میں وہ کون تھا کہ جس سے لپٹنے نظر گئی جس سے تھی آبروئے تلاطم وہ موج بھی خالدؔ کنار خاک پہ سر رکھ کے مر گئی

kahti hui ye mujh se havaa-e-sahar gai

غزل · Ghazal

میری تخلیق ہوئی جس کی تگ و تاز کے ساتھ وہی ذرہ مجھے تکتا ہے بڑے ناز کے ساتھ جرم کے بعد کھلا دل پہ در خوف سزا ذہن بیدار ہوا صبح کے آغاز کے ساتھ میں نے بھی توڑ دیا خاک کی خوشبو کا طلسم کھو گیا میں بھی خلاؤں میں بڑے راز کے ساتھ پھر مری راہ میں حائل ہے وہی کوہ سکوت میں نے کاٹا تھا جسے تیشۂ آواز کے ساتھ ڈھونڈھتی پھرتی ہے کردار کو تمثیل‌ گنہ رت جگے ختم ہوئے خالدؔ شیراز کے ساتھ

meri takhliq hui jis ki tag-o-taaz ke saath

غزل · Ghazal

نت نئی خوش فہمیوں میں مبتلا رکھتا ہوں میں خلق کے ہاتھوں کو مصروف دعا رکھتا ہوں میں خشک دھرتی کو عطا کرتا ہوں سایہ ابر کا قطرۂ باراں پہ دریا کی بنا رکھتا ہوں میں ڈھونڈھ ہی لیتی ہے مجھ کو ڈھونڈنے والی نظر اپنے سائے کو اگرچہ لاپتا رکھتا ہوں میں کیوں بھلا آسودگی میرے مقدر میں نہیں کس لیے دن رات خود کو جاگتا رکھتا ہوں میں پھونکتا رہتا ہوں بحر لفظ میں خالدؔ فسوں موج معنی کو تلاطم آشنا رکھتا ہوں میں

nit-nai khush-fahmiyon mein mubtalaa rakhtaa huun main

Similar Poets