SHAWORDS
K

Khalil Aslam Qureshi

Khalil Aslam Qureshi

Khalil Aslam Qureshi

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

aadaab ab vafaa ke sikhaae na jaaeinge

آداب اب وفا کے سکھائے نہ جائیں گے اب ناز بے وفا کے اٹھائے نہ جائیں گے کیوں کر یوں پوچھتے ہو پشیمانیاں مری صدمے ہوئے جو مجھ کو بتائے نہ جائیں گے عہد وفا لٹی تو مروت بھی چل بسی ہم سے تعلقات نبھائے نہ جائیں گے پر کیف زندگی کبھی میری نہیں رہی وہ زخم زندگی کے دکھائے نہ جائیں گے یارب تو اب غریب کی سن لے دہائیاں اب غم مزید مجھ سے اٹھائے نہ جائیں گے

غزل · Ghazal

siine mein dam ko toDti khvaahish kaa baar thaa

سینے میں دم کو توڑتی خواہش کا بار تھا کیا خواب تھا کہ جس میں نہ صبر و قرار تھا ہر حال اس کے دل میں تو پڑنے تھے آبلے ہستی غرور کی تھی انا کا شکار تھا اشکوں کی جا لہو ہی ٹپکتا رہا مرے یہ چشم نم نہیں تھی یہ خنجر کا وار تھا ہونے لگا تھا مجھ کو تو یوں وصل کا یقیں جیسے گلاب کے قریں لازم وہ خار تھا تا عمر قرضہ اپنا ادا کرتا ہی رہا اسلمؔ پہ غم کا بوجھ بھی تو بے شمار تھا

غزل · Ghazal

har lamha tiri yaad baDhaane ke liye hai

ہر لمحہ تری یاد بڑھانے کے لئے ہے سوئے مرے جذبوں کو جگانے کے لئے ہے چھالوں سے مرے پاؤں کا رشتہ یہ پرانا تپتے ہوئے صحرا کو ڈرانے کے لئے ہے بے سود پریشاں ہیں مجھے سوچنے والے رفتار تو خوابیدہ جگانے کے لئے ہے تم سنگ تراشوں کو بلا کر یہاں لانا اک تجھ سے حسیں اور بنانے کے لئے ہے اک ہلکی جھلک اپنی دکھا کر چلے جانا نظروں سے مری مجھ کو گرانے کے لئے ہے یوں ہی تو نہیں چلتی ہوا تیز چمن میں سوکھے ہوئے پتوں کو جھڑانے کے لئے ہے ہر غم کو مرے دل نے چھپا کر یوں رکھا ہے اسلمؔ کو یہ نظروں سے بچانے کے لئے ہے

Similar Poets