Khalish Muzaffar
جاگنے والو جاگتے رہنا کچھ مت کہنا جاگتے رہنے کا دکھ سہنا کچھ مت کہنا ہر موسم میں جھولنے والی ان بانہوں میں کیسے اترا ہے یہ گہنا کچھ مت کہنا تو نے چپ کا ہار اے دریا گیت گلے میں کب پہنا اور کیسے پہنا کچھ مت کہنا میں بھی تیرے ساحل پر خاموش کھڑا ہوں تو بھی چپکے چپکے بہنا کچھ مت کہنا دوری کے صدمے کو اے دل وصل کی شب تک میں بھی سہوں گا تو بھی سہنا کچھ مت کہنا ایک سمندر میں پیاسا ہے اک صحرا میں یہ ہے اپنا اپنا گہنا کچھ مت کہنا دن بیتا یا جگ بیتا ہے خلش مظفرؔ خلش مظفرؔ کچھ مت کہنا کچھ مت کہنا
jaagne vaalo jaagte rahnaa kuchh mat kahnaa