Khan Manzoor
Khan Manzoor
Khan Manzoor
Ghazalغزل
وہ ہم ہوں گے ستم گاروں سے جو ٹکرانے آئیں گے سر محفل محبت کا سبق دہرانے آئیں گے وہ مے جس کو سمجھنے کے لئے پینا پڑے ہم کو ہمیں اس کی حقیقت شیخ کیا سمجھانے آئیں گے انہیں لب تک نہ لانے کی قسم تم نے تو دے دی ہے زبان خلق پر لیکن وہی افسانے آئیں گے سکوں کس کا لٹے گا کون خوش ہوگا سر محفل نہیں معلوم وہ کس پر کرم فرمانے آئیں گے فرشتوں سے خطا ہوتی نہیں انساں سے ہوتی ہے سنا ہے اس بہانے شیخ بھی میخانے آئیں گے خود اپنی تنگ ظرفی سے چھلک اٹھیں گے محفل میں بوقت مے کشی ایسے بھی کچھ پیمانے آئیں گے شگون نیک ہے مے خانے کا برباد ہو جانا نیا ساقی نئے شیشے نئے پیمانے آئیں گے بہار گلستاں منظورؔ جن راہوں سے آئے گی چھڑکتے خوں پئے گل جھومتے دیوانے آئیں گے
vo ham honge sitam-gaaron se jo Takraane aaeinge
نہ ہوتے اہل دل اہل ستم جانے کہاں جاتے یہ برق انداز جلوے آگ برسانے کہاں جاتے سبھی زاہد صفت ہوتے تو میخانے کہاں جاتے شباب و کیف و سرمستی کے افسانے کہاں جاتے وہ یوں کہئے کہ ٹھوکر کھا کے آتا ہے سنبھل جانا وگرنہ تم سے ظالم ہم سے پہچانے کہاں جاتے جنوں گر انقلاب دہر کی راہوں پہ چل پڑتا جناب خضر کیا کرتے یہ فرزانے کہاں جاتے مجسم برف ہوں جذبات جن کے ان سے کیا حاصل ہم ایسی بے حسی میں خون گرمانے کہاں جاتے مرے ہی دم سے ہیں منظورؔ ان کی جلوہ گاہیں بھی وگرنہ حشر ساماں ناز فرمانے کہاں جاتے
na hote ahl-e-dil ahl-e-sitam jaane kahaan jaate
پھر شباب و شعر کا چرچا ہوا ایک جشن زندگی برپا ہوا کاروبار زندگی پھیلا ہوا عمر کم اور وقت ہے اڑتا ہوا اشک ہائے غم کی طغیانی نہ پوچھ جیسے دریا جوش پر آیا ہوا آتش غم سے پھٹا جاتا ہے دل پر نظر آتا نہیں جلتا ہوا جان کر بھی میری آمد کا سبب پوچھتے ہو کس لئے آنا ہوا سر بہ سجدہ ہیں خدا کے سامنے زلف جاناں میں ہے دل اٹکا ہوا دل میں ہنگامے تمناؤں کے ہیں غم ہٹا ان کا کہ سناٹا ہوا غالباً امید افزا ہے جواب ہے لفافہ عطر سے مہکا ہوا ان کو منزل پر پہنچنے کا یقیں راہبر جن کا ہے خود بھٹکا ہوا تنگ ظرفوں کو لبالب جام مے رند اک اک بوند کو ترسا ہوا کر گیا یہ کون خود کو سر بلند کس کا سر ہے دار پر لٹکا ہوا جس جگہ بھی آپ نے رکھا قدم اک نیا فتنہ وہاں پیدا ہوا ظالمان وقت نے دیکھا نہیں خشمگیں آنکھوں میں خون آیا ہوا ہو رہا ہے نوک خنجر سے رقم ہر فسانہ خون میں ڈوبا ہوا دیکھ وہ ہے مرد میدان حیات جی رہا ہے موت سے لڑتا ہوا
phir shabaab-o-sher kaa charchaa huaa
ہم پر نہ کریں گے وہ جفا سوچ رہے ہیں یہ سوچ رہے ہیں تو برا سوچ رہے ہیں یہ آپ کے الطاف و کرم کا ہے نتیجہ اچھے تھے جو کل آج برا سوچ رہے ہیں پوری کوئی ہوتی نہیں انساں کی تمنا کیا کیجے طلب وقت دعا سوچ رہے ہیں اتنے تو کبھی دست حسیں سرخ نہ دیکھے یہ خون ہے یا دست حنا سوچ رہے ہیں معلوم نہیں جن کو فضا اپنے وطن کی دنیا کی ہے کس رخ پہ ہوا سوچ رہے ہیں حیرت ہے کہ ہر فرد کو بیمار بنا کر اب وقت کے لقمان دوا سوچ رہے ہیں انساں کی تباہی کے لئے کیا کریں تخلیق دنیائے ترقی کے خدا سوچ رہے ہیں جینے کے لئے شیخ یہ سوچیں کہ کریں کیا فردوس کی کیوں بعد فنا سوچ رہے ہیں منظور مرے ذکر پہ وہ سر کو جھکائے کس فکر میں ڈوبے ہوئے کیا سوچ رہے ہیں
ham par na kareinge vo jafaa soch rahe hain





