Khatir Hafizi
Khatir Hafizi
Khatir Hafizi
Ghazalغزل
موسم کے انتظار میں لیٹی ہوئی تھی دھوپ یعنی تھکی تھکی سی تھی سوئی ہوئی تھی دھوپ کیا روشنی تھی جیسے اجالے کی مردنی گھر کے سیاہ غار میں ڈوبی ہوئی تھی دھوپ پھولوں کے جام پیتے ہی مخمور ہو گئی آنگن میں چار سمت جو پھیلی ہوئی تھی دھوپ اندھے اندھیرے غار کا اک خوف دل میں تھا ہاں اس لیے بھی باغ میں سوئی ہوئی تھی دھوپ ہر چند میں کہ خواب زمستاں میں محو تھا بستر کے آس پاس ہی لیٹی ہوئی تھی دھوپ
mausam ke intizaar mein leTi hui thi dhuup
موسم کے ساتھ رخ بھی بدلنے لگی ہوا ویران جالیوں پہ تھرکنے لگی ہوا کمرے کی کھڑکیوں پہ چمکنے لگی ہے دھوپ پربت کی سیڑھیوں سے اترنے لگی ہوا جنگل کے چار سمت سے آئی ہوئی وہ گونج لمحہ بہ لمحہ جیسے بپھرنے لگی ہوا دیکھا مجھے جو بارہا کھڑکی کے آس پاس میری گلی میں روز ٹھہرنے لگی ہوا آبادیوں کے زور پہ بڑھتا گیا غرور خاموشیوں کے کان کترنے لگی ہوا چپکے سے اجتناب کا چہرہ لگا لیا میری غزل کے روپ سے ڈرنے لگی ہوا موسم کے انتظار میں خاطرؔ ہو کیوں ملول دیکھو وہ وادیوں میں اترنے لگی ہوا
mausam ke saath rukh bhi badalne lagi havaa
درد کی چوکھٹ پہ آ کر یوں صدا دیتا ہے کون رات کے پچھلے پہر مجھ کو جگا دیتا ہے کون خون کے دریا فضاؤں میں بہا دیتا ہے کون روز سورج کو یہاں سولی چڑھا دیتا ہے کون میرے کمرے کا اجالا سوچتا رہ جاتا ہے رات ہوتے ہی یہاں پردہ گرا دیتا ہے کون مجھ کو بستر سے اٹھا کر صبح ہونے کے قریب دن کی ساری تلخیاں مجھ کو پلا دیتا ہے کون دیکھتے ہی دیکھتے دن کے بھرے بازار میں آخر آخر شب کی مشعل سے جلا دیتا ہے کون چونک اٹھتا ہے خدا بھی آسمانوں کا زوال عرش اعظم کو بھی اکثر یوں ہلا دیتا ہے کون خون روتے جائیے ہر اک گھڑی خاطرؔ کہاں نا شناسوں کی ہے بستی خوں بہا دیتا ہے کون
dard ki chaukhaT pe aa kar yuun sadaa detaa hai kaun
ٹوٹا ہوا دیا ہی سہی زندگی تو ہے سر پر ہمارے درد کی چادر تنی تو ہے بھونچال آ رہا ہے دشاؤں میں ہر طرف جنگل کی باس آج ہوا میں ملی تو ہے تم پوجتے ہو جس کو خیالوں میں رات دن لڑکی وہ سولہ سال کی چھت پر کھڑی تو ہے موسم کے ساتھ آج بہکتی چلے ہوا لغزیدہ کونپلوں میں ابھی تازگی تو ہے پڑھیے عزیز جان کے میری نگارشات کچھ ندرت خیال سہی شاعری تو ہے خاطرؔ کسی غریب کو اتنا نہ چھیڑئیے ٹوٹا ہوا ضرور سہی آدمی تو ہے
TuuTaa huaa diyaa hi sahi zindagi to hai
صورت امتحان میں گم ہے زندگی اک جہان میں گم ہے کیا زمیں پر نہیں اترتا وہ کیا خدا آسمان میں گم ہے بے حسی کے عجیب تیور ہیں زندگی اک مکان میں گم ہے آدمی دور آفریدہ ہے وسعت امتحان میں گم ہے راستہ پا گیا ہے یا راہی منزلوں کے نشان میں گم ہے پیش خاطرؔ ہے آئنہ لیکن آئنہ خود گمان میں گم ہے
surat-e-imtihaan mein gum hai
فضا میں خوشگوار سی جو بو تھی ایسی بس گئی ہوا کے جال تن گئے زمیں کی ڈور کس گئی خوشی کے سارے قافلے ہوا میں جیسے کھو گئے چمک رہی تھی دھول جو زمین پر برس گئی یہ زندگی جو آئنوں کے جال کا فشار تھی چلی تھی راہ ڈھونڈنے کو مقتلوں میں پھنس گئی ہزارہا برس ہوئے خلا میں تیرتے ہوئے نہ جانے کس کی چاہ تھی زمین بھی ترس گئی یہ اور بات ہے کوئی سمجھ سکا نہ حافظیؔ جنون و عقل و ہوش تک زمین کی ہوس گئی
fazaa mein khush-gavaar si jo bu thi aisi bas gai





