Khawar Naqeeb
Khawar Naqeeb
Khawar Naqeeb
Ghazalغزل
jaagti aankhon se vaabasta diyaa maange hai
جاگتی آنکھوں سے وابستہ دیا مانگے ہے وقت امید بصارت کی دعا مانگے ہے گرد آلود فضاؤں میں بھٹکتا موسم گمشدہ لمحہ سے خود اپنا پتا مانگے ہے عکس در عکس حقیقت کی لکیریں روشن خواب در خواب کوئی حسن ادا مانگے ہے اپنی مجروح نگاہوں کا سفر ہے جاری جستجو کرب مسافت کی دوا مانگے ہے منصف وقت کی مغرور سماعت خاورؔ گونگے مجرم سے صداقت کی نوا مانگے ہے
rang bharte jaa rahe hain rafta rafta
رنگ بھرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ گل نکھرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ عہد برنائی کے یہ اوراق رنگیں کیوں بکھرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ سیڑھیاں شیشے کی پاؤں سنگ کے ہیں ہم اترتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ اب تو ہم اخبار میں چھپنے لگے ہیں نام کرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ رہ گزار شوق ہے یہ زیست جس سے ہم گزرتے جا رہے ہیں رفتہ رفتہ
pighalti shama se main khud ko be-khabar kar luun
پگھلتی شمع سے میں خود کو بے خبر کر لوں غزل کو فکر کی حدت سے معتبر کر لوں سفر طویل ہے لیکن یوں مختصر کر لوں میں اپنی دورئ منزل کو ہم سفر کر لوں فسون شب کو نگاہوں سے متصل کر کے حدود خواب کو وابستۂ سحر کر لوں فلک پہ چاند ستارے حسد سے جلتے ہیں میں اپنی قوت پرواز مختصر کر لوں





