SHAWORDS
Khayal Laddakhi

Khayal Laddakhi

Khayal Laddakhi

Khayal Laddakhi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

maazi ke khayaalaat se rishta nahin meraa

ماضی کے خیالات سے رشتہ نہیں میرا بھولی ہوئی ہر بات سے رشتہ نہیں میرا بے ہوش قدم لے کے چلے جاتے ہیں مجھ کو ورنہ تو خرابات سے رشتہ نہیں میرا اس دور کے حالات کو بھولا نہیں اب تک اس دور کے حالات سے رشتہ نہیں میرا میں اپنے ہی اشکوں کا محافظ ہوں وگرنہ بے وقت کی برسات سے رشتہ نہیں میرا واں شاد ہو ہر کوئی یاں افسردہ نگاہیں کچھ ایسے مساوات سے رشتہ نہیں میرا میں فتنۂ امکان سماوات سے حیراں دنیا کے خرافات سے رشتہ نہیں میرا مجھ کو مری ہر ایک عبادت سے سروکار لفظوں کے سوالات سے رشتہ نہیں میرا اپنوں کا ستایا ہوں خیالؔ آج بھی لیکن اپنی ہی کسی ذات سے رشتہ نہیں میرا

غزل · Ghazal

havaaon ko main paDhnaa siikh lungaa

ہواؤں کو میں پڑھنا سیکھ لوں گا اگر پتوں سا جھڑنا سیکھ لوں گا حقیقت سے مکرنا سیکھ لوں گا چلو سجنا سنورنا سیکھ لوں گا رہا کر دو مجھے تم بندشوں سے میں تنہائی سے لڑنا سیکھ لوں گا خرابہ راہ میں مل جائے کوئی ذرا میں بھی ٹھہرنا سیکھ لوں گا لکیریں کھل کے آئیں سامنے گر میں قسمت کو بھی پڑھنا سیکھ لوں گا مری ہر ایک خواہش ہوگی پوری دئے کو جب رگڑنا سیکھ لوں گا اگر رشتے نبھانا ہو ضروری تو میں لڑنا جھگڑنا سیکھ لوں گا سفر کی ٹھوکروں کے بعد میں بھی کوئی دامن پکڑنا سیکھ لوں گا ابھی خوف خدا سر پر ہے طاری کبھی خود سے بھی ڈرنا سیکھ لوں گا بنانا خود کو سیکھا زندگی بھر خیالؔ اب کے بگڑنا سیکھ لوں گا

غزل · Ghazal

teraa husn-o-jamaal likhtaa huun

تیرا حسن و جمال لکھتا ہوں عشق کا عرض حال لکھتا ہوں میرا اپنا نہیں ہے کچھ بھی یہاں میں کسی کے خیال لکھتا ہوں موت کو اپنی طاق پر رکھ کر خود میں اپنی مجال لکھتا ہوں اس قیامت سے فرصتیں لے کر اس قیامت کا حال لکھتا ہوں خوش خرامی سے منہ چھپا کر میں درد و زار و وبال لکھتا ہوں روشنائی ہے روشنی مجھ کو سرخ رنگ گلال لکھتا ہوں وہ ہے اک بت خموش رہتا ہے میں ہوں سائل سوال لکھتا ہوں ایک پوری غزل لکھی لیکن اک ادھورا ملال لکھتا ہوں یوں تو لکھتا نہیں ہوں میں اکثر لکھ دیا تو کمال لکھتا ہوں لوگ سنتے نہیں ہیں جب مجھ کو تب میں جا کر خیالؔ لکھتا ہوں

غزل · Ghazal

ek TuuTi kamaan rakhtaa huun

ایک ٹوٹی کمان رکھتا ہوں پھر ہتھیلی پہ جان رکھتا ہوں منفرد اپنی شان رکھتا ہوں اک بلا کا گمان رکھتا ہوں ان کو ان کی انا مبارک ہو میں بھی اپنا جہان رکھتا ہوں دیر و مسجد سے ہوں اگر واقف میکدے کا بھی دھیان رکھتا ہوں طرز مسند ہے یہ زمیں مجھ کو چھت کو اک آسمان رکھتا ہوں دیر لگتی ہے مجھ کو گرنے میں ساتھ میں پاسبان رکھتا ہوں میرا بولا کوئی نہیں بولے میں کہاں ہم زبان رکھتا ہوں تیغ رکھتا ہوں میں قلم اپنی لیک میٹھی زبان رکھتا ہوں خوں دیا ہے خیالؔ حرفوں کو اب میں لفظوں میں جان رکھتا ہوں

غزل · Ghazal

jab kali par shabaab aataa hai

جب کلی پر شباب آتا ہے نکہت گل کو تاب آتا ہے دیر ہو جائے شیخ توبہ میں جلد وقت حساب آتا ہے اتنی بے سدھ ہیں دھڑکنیں میری کیا کوئی بے حجاب آتا ہے پھر وہ کہتے ہیں دیکھ کر مجھ کو لو وہ خانہ خراب آتا ہے نام باتوں میں جب مرا آئے رخ پہ رنگ گلاب آتا ہے دو گھڑی موت روک لے کوئی لے کے قاصد جواب آتا ہے دور فرقت نہ پوچھیے ہم سے نیند آئے نہ خواب آتا ہے جب بھی ہوتا ہوں میکدے داخل مجھ پہ دور شباب آتا ہے وہ جو ہو جائیں روبرو ہم سے ہم کو ان سے حجاب آتا ہے صبح دم اس کا بام پر آنا کاکلیں پیچ و تاب آتا ہے جب جبین خیالؔ جھک جائے عرش سے ماہتاب آتا ہے

غزل · Ghazal

mai-kada hai khumaar hai thoDaa

میکدہ ہے خمار ہے تھوڑا زیست کا کاروبار ہے تھوڑا مرگ کی خوش گمانیاں تھوڑی زندگانی کا بھار ہے تھوڑا میرے آزار ڈھونڈ لائے کوئی اب بھی مجھ کو قرار ہے تھوڑا وہ بھی تیرے سپرد کرتا ہوں خود پہ جو اختیار ہے تھوڑا موسم گل کا ایک مجھ پہ جنوں اس پہ رنگ بہار ہے تھوڑا موت لے کر چلی ہے اب مجھ کو جو ترا ہے دیار ہے تھوڑا ٹیس دل کی خیالؔ ہے تھوڑی درد بھی پائیدار ہے تھوڑا

Similar Poets