SHAWORDS
Khizr Abbas

Khizr Abbas

Khizr Abbas

Khizr Abbas

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

یہ حادثہ بھی دیکھ جو مجھ پہ گزر گیا فصل بہار آئی تو دل کا شجر گیا ایسا ہوا ستم کہ کہیں کے نہیں رہے ایسا ہوا کرم کہ محبت کا ڈر گیا گر دیکھنا ہے معجزہ پرواز کا تجھے اس کو فضا میں دیکھ جو بے بال و پر گیا ماتم کروں نہ کس لئے میں ایسے شخص کا منزل تو مل گئی جسے ذوق سفر گیا ابھرے بغیر چاند بھی اب کے ہوا غروب یعنی نشہ چڑھا بھی نہیں اور اتر گیا پیاسے کے پاس کب بھلا پانی گیا کبھی بادل یہ کہہ کے پیاسے کے سر سے گزر گیا اب موت کا بھی کوئی تقاضا نہ ہو خضرؔ ہر شخص زندگی کے تقاضوں سے مر گیا

ye haadsa bhi dekh jo mujh pe guzar gayaa

غزل · Ghazal

جو ترے حسن کے قریں سے گئے وہ تو دنیا سمیت دیں سے گئے وہ کہ رہتا تھا جن مکانوں میں اب وہ سارے مکاں مکیں سے گئے حوصلہ اس قدر کہاں سب میں ہم ترے عشق بے یقیں سے گئے موت آئی ہمیں ترے در پر ہم گئے بھی تو آفریں سے گئے اک ترا بت تراشنے کے لئے کتنے سجدے مری جبیں سے گئے جس جگہ قیس کا ٹھکانہ تھا آج عشاق سب وہیں سے گئے اس زمیں زاد کی جھلک کے لئے کس قدر آسماں زمیں سے گئے آستیں کیا گئی خضرؔ میری سارے احباب آستیں سے گئے

jo tire husn ke qarin se gae

غزل · Ghazal

شب فراق کے بارے میں اور کیا کہیے کسی فقیر کی مقبول بد دعا کہیے ہر ایک شخص ہے اپنی ہی ذات میں گم صم کوئی بتائے کسے کس کا مبتلا کہیے اس اعتقاد کے صدقے نہ کیوں بھلا جائیں جو شخص بت بھی نہیں ہے اسے خدا کہیے اجل کی سمت سبھی لوگ ہیں رواں یعنی اسے بھی زندگی کا کوئی راستہ کہیے کسی کا عکس حقیقی نہیں دکھاتا ہے اس آئنے کو بھلا کیسے آئنہ کہیے میں اپنے طور سے کرتا ہوں بات دل کی خضرؔ ادائے غیر سے کیا دل کا مدعا کہیے

shab-e-firaaq ke baare mein aur kyaa kahiye

غزل · Ghazal

بہت ہی معتبر رویا غم شہ میں اگر رویا فلک سے جب گھٹا برسی مرا ہر بام و در رویا ہوا جب قتل پروانہ تو قاتل خود شرر رویا ہنسا تھا آسمانوں میں زمیں پر کیوں بشر رویا سر صحرا بہت خوش تھا سر دریا مگر رویا پکے پھل توڑ لینے سے خبر کب تک شجر رویا نہ جانے کس جگہ پہنچے جہاں خود پر خضرؔ رویا

bahut hi mo'atabar royaa

غزل · Ghazal

آدمی شہر سے نکلتا ہے قطرہ اب بحر سے نکلتا ہے اس قدر نفرتوں کی عادت ہے دم مرا مہر سے نکلتا ہے جو ترے عشق میں ہے محو رقص وہ کب اس لہر سے نکلتا ہے ہے پسند دھوپ میں اسے رہنا دل ترے سحر سے نکلتا ہے آپ اب خواب میں نہیں آتے خواب اب قہر سے نکلتا ہے اس قدر خوف ہے کہ سورج بھی آج دوپہر سے نکلتا ہے زندگی دیکھتی ہے حیرت سے کام جب زہر سے نکلتا ہے خون فرہاد کا ہے یہ ورنہ دودھ کب نہر سے نکلتا ہے آنکھ میں اشک ہیں خضرؔ میرے چشمہ اب دہر سے نکلتا ہے

aadmi shahr se nikaltaa hai

غزل · Ghazal

ہر ایک درد سنبھالا ہے زندگانی میں جھلک رہا ہے بڑھاپا تبھی جوانی میں مجھے تو دھوپ سے بھی اس قدر نہ خوف آیا ملا ہے خوف جو اب تیری سائبانی میں کبھی پیا گیا اس کو کبھی بہایا گیا کوئی بھی فرق نہ تھا خون اور پانی میں اسے نظر کی بھلا کون سی کہوں منزل دکھائی دینے لگا زرد رنگ دھانی میں زباں دراز تو ٹھہرے مگر یہی سچ تھا لٹا ہے شہر یہ تیری ہی پاسبانی میں ملا نہ قطرہ آب بقا سمندر سے ملی ہے موت ہمیں شہر جاودانی میں گنوا کے عمر جسے ہم سنبھال لائے تھے گنوا دیا اسے اک بات کی روانی میں رکاوٹیں ہیں یہ رستے کی اے خضرؔ ناداں جنہیں تو منزلیں سمجھا ہے بے دھیانی میں

har ek dard sanbhaalaa hai zindagaani mein

Similar Poets