SHAWORDS
Khizr Barni

Khizr Barni

Khizr Barni

Khizr Barni

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

zakhm-e-dil achchhaa huaa pahlu badal jaane ke baad

زخم دل اچھا ہوا پہلو بدل جانے کے بعد دل کی دھڑکن مٹ گئی آنسو نکل جانے کے بعد وعدۂ رنگیں سے ہوگا ہائے کیا خاک اہتمام آرزو کے پھول چٹکی سے مسل جانے کے بعد کیا کریں خون طرب کی سرخیٔ افسانہ کو رنگ و بو کی رائیگاں گھڑیوں کے ٹل جانے کے بعد مے انڈیلی بھی جو میناؤں میں ساقی نے تو کب شیشہ ہائے رنگ سے موسم نکل جانے کے بعد ڈھونڈتے پھرتے ہیں خود دیر و حرم کے پاسباں ہوش مندان خرد کا دم نکل جانے کے بعد کون افسردہ جوانی کو جلا دے گا خضرؔ عہد ناؤ نوش کی شمعیں پگھل جانے کے بعد

غزل · Ghazal

kali kali ke bajaa raazdaar hain ham log

کلی کلی کے بجا رازدار ہیں ہم لوگ چمن کو فخر ہے جن پر وہ خار ہیں ہم لوگ لہو سے اپنے گلستاں کو سبزہ زار کیا بہت خلوص کے آئینہ دار ہیں ہم لوگ حقیر جان کے ٹھکرا رہے ہیں اہل چمن چمن میں اپنی جگہ خود بہار ہیں ہم لوگ کچھ ایسا گردش دوراں کا دیکھتے ہیں فسوں کہ آج اہل گلستاں پہ بار ہیں ہم لوگ ستم یہ ہے کہ زمانہ کا غم اٹھانے پر قرار پاتے نہیں بے قرار ہیں ہم لوگ یہی ہے دعوت عیش و نشاط روز و شب خوشی کا ذکر نہیں اشک بار ہیں ہم لوگ ہمارے عہد گزشتہ کی دیکھیے تاریخ خود اپنی شان میں ذی افتخار ہیں ہم لوگ قدم قدم پہ مصائب اٹھا رہے ہیں خضرؔ خدا گواہ کہ پھر غم گسار ہیں ہم لوگ

غزل · Ghazal

qaabil-e-did ye bhi manzar hai

قابل دید یہ بھی منظر ہے ہر خوشی غم کا ایک دفتر ہے سوچتا ہوں یہی مرا گھر ہے کس کے جلووں سے اب منور ہے یاد جاناں ارے معاذ اللہ جیسے پہلو میں ایک نشتر ہے ان سے ہر چند رسم و راہ نہیں سلسلہ غم کا پھر برابر ہے کیسے ہو مستفیض پیشانی سنگ دل جب کہ خود ترا در ہے یک بیک ہنس پڑا ہے دیوانہ ہر نفس دیکھتا ہے ششدر ہے امتحاں خضرؔ ہے وفاؤں کا اس کے ہاتھوں میں آج خنجر ہے

غزل · Ghazal

karam ho yaa sitam sar apnaa kham yuun bhi hai aur yuun bhi

کرم ہو یا ستم سر اپنا خم یوں بھی ہے اور یوں بھی ترا دیوانہ تو ثابت قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی جفا ہو یا وفا اس کا کرم یوں بھی اور یوں بھی نوازش روز و شب اور دم بہ دم یوں بھی ہے اور یوں بھی بھلا دیں یا کریں ہم یاد غم یوں بھی ہے اور یوں بھی کسی کے ہجر میں خود چشم نم یوں بھی ہے اور یوں بھی حیات و موت کا مقصد سمجھ میں آ نہیں سکتا وگرنہ آدمی مجبور غم یوں بھی ہے اور یوں بھی ملی رونے سے جب فرصت تو آنسو پی لئے ہم نے محبت کے لئے گویا بھرم یوں بھی ہے اور یوں بھی بغاوت کوئی کرتا ہے رضا پر ہے کوئی قائل وہ ہے معبود اس کا تو کرم یوں بھی ہے اور یوں بھی نگاہ ناز سے وہ دیکھ کر نظریں چراتا ہے ہمارا دل خضرؔ مشق ستم یوں بھی ہے اور یوں بھی

غزل · Ghazal

jafaa ke baad huaa hai magar malaal to hai

جفا کے بعد ہوا ہے مگر ملال تو ہے خوشا نصیب انہیں پھر مرا خیال تو ہے عدو کی بزم طرب میں شریک کیا ہوتے مزاج دوست میں اب تک بھی اشتعال تو ہے زباں پہ حرف و حکایات کیا ضروری ہیں گریباں چاک دکھانا ہی عرض حال تو ہے کسی کی راہ محبت میں گامزن ہونا حیات کا یہی زرین اک مآل تو ہے جنون شوق کی تکمیل ہو نہ ہو پھر بھی کسی کے پیش نظر عشق کا سوال تو ہے نظر میں پیار اشاروں میں دل کی بات کا عکس زباں پہ ظاہری اک ان کی قیل و قال تو ہے تصورات میں کوئی سما رہا ہے خضرؔ قرار پھر نہ سہی عزم نیک فال تو ہے

غزل · Ghazal

ishq mein kyaa kaam karti aql-o-daanaai ki baat

عشق میں کیا کام کرتی عقل و دانائی کی بات دو قدم آگے چلی عزت سے رسوائی کی بات وقت مشکل غیر کیا اپنے بھی دشمن بن گئے کہہ گیا ہے جوش میں دیوانہ گہرائی کی بات کام کرتا ہے تصور کام آتی ہے نظر بے سبب ہوتی نہیں ہے جلوہ آرائی کی بات مسکراتا ہوں تو آنکھوں میں مچل جاتے ہیں اشک درد میں گھل مل گئی ہے ایک ہرجائی کی بات پردہ داری کی نمائش ہو رہی ہے روز و شب اک تماشا بن گئی ہے خود تماشائی کی بات خود بخود پیروں سے رستا ہے خضرؔ میرے لہو جب کوئی کرتا ہے مجھ سے آبلہ پائی کی بات

Similar Poets