KHumaar Dehlvii
KHumaar dehlvii
KHumaar dehlvii
Ghazalغزل
احباب میرے سارے کے سارے بدل گئے نگہ کرم کے جب سے اشارے بدل گئے حسرت ہے دیکھنے کی نہ جلوؤں میں دل کشی نظریں بدل گئیں کہ نظارے بدل گئے کاندھوں پہ ذمہ داریاں جس دن سے آ گئیں تب سے تمام شوق ہمارے بدل گئے دست دراز ہم نے کیا مانگی بھیک تک لیکن وفا سے دوست ہمارے بدل گئے تقدیر ہم پہ ہونے ہی والی تھی مہرباں پھر یوں ہوا نصیب کے تارے بدل گئے جس روز تیرے آنے کی لائی خبر ہوا اس روز گل کدے میں شرارے بدل گئے بدلا خمارؔ وقت ہمارا تو دفعتاً محسن تمام بدلے سہارے بدل گئے
ahbaab mere saare ke saare badal gae
کام کوئی تو کام کا کرتے حق تو یہ تھا کہ حق ادا کرتے کیا طریقہ ہے بادشاہت کا ہم فقیروں سے مشورہ کرتے اس ستم گر کی یہ بھی خواہش تھی ظلم سہہ کر بھی التجا کرتے جاری رکھتے یہ سلسلہ کب تک وہ برا اور ہم بھلا کرتے بے خطا بھی سزائیں بھگتی ہیں ہم خطائیں نہیں تو کیا کرتے لب کھلے ہی نہ روبرو ان کے کس طرح عرض مدعا کرتے قرض کا بوجھ تھا کسانوں پر خودکشی کے علاوہ کیا کرتے بعد میں کرتے فیصلہ پہلے اپنے دل سے تو مشورہ کرتے مجھ پہ تہمت لگانے والے لوگ پہلے خود کو تو آئنہ کرتے خود پرستی ہی جن کا شیوہ ہے ایسے لوگوں سے کیا گلہ کرتے
kaam koi to kaam kaa karte
دل میں ہر ایک آرزو گھٹ گھٹ کے مر گئی عمر رواں گزرنے کو آخر گزر گئی اے چاند تارو آپ نے دیکھا ہے کیا اسے میری خوشی ابھی ابھی جانے کدھر گئی شام غم فراق تھی اور آپ کا خیال پھر یوں ہوا کہ آنکھ تمنا کی بھر گئی محفل میں کھل گئی جو مری دفعتاً زباں سنتے ہی کتنے چہروں کی رنگت اتر گئی بگڑا مرا نصیب تو کیوں غم کروں بھلا یہ بھی تو کم نہیں تری قسمت سنور گئی سادہ مزاجیاں ہیں اچنبھے میں آج تک فتنہ گروں کی چال بڑا کام کر گئی ہوش و حواس اڑ گئے آنکھیں کھلی رہیں لوگوں کی جب نگاہ ترے بام پر گئی
dil mein har ek aarzu ghuT ghuT ke mar gai
قفس کی تیلیاں ہیں اور میں ہوں وطن سے دوریاں ہیں اور میں ہوں وہی پہلے کے جیسی بے قراری وہی بے خوابیاں ہیں اور میں ہوں مقید عہد ماضی کے کھنڈر میں مری خوش فہمیاں ہیں اور میں ہوں نہ جگنو ہے نہ ہے کوئی ستارا عجب تاریکیاں ہیں اور میں ہوں مری تاریک راتوں کے مشاہد جھروکے کھڑکیاں ہیں اور میں ہوں مرے گھر میں برائے ہم نوائی مری تنہائیاں ہیں اور میں ہوں وہی ناسازیٔ قسمت کی مجھ پر کرم فرمائیاں ہیں اور میں ہوں نہ بدلا ہے نہ بدلے گا یہ لہجہ وہی بے باکیاں ہیں اور میں ہوں وہی حالات سے جہد مسلسل وہی ناکامیاں ہیں اور میں ہوں
qafas ki tiliyaan hain aur main huun





