Khumar Ansari
گو شمع صفت پگھل رہے ہیں ہم سینۂ شب میں جل رہے ہیں کتنوں نے کیا تھا عہد محکم کتنے ہیں جو ساتھ چل رہے ہیں ماحول میں روشنی کہاں ہے جلنے کو چراغ جل رہے ہیں باتوں میں تری کہاں تھے پہلے مفہوم جواب نکل رہے ہیں تہذیب حیات ہو رہی ہے ہم ان کی رضا میں ڈھل رہے ہیں یہ تاب و تواں خمارؔ کب تھی منزل کی لگن میں چل رہے ہیں
go sham'-sifat pighal rahe hain