Khursheed Ambar Pratapgadhi
Khursheed Ambar Pratapgadhi
Khursheed Ambar Pratapgadhi
Ghazalغزل
vo ik hasin haadisa jo hote hote Tal gayaa
وہ اک حسین حادثہ جو ہوتے ہوتے ٹل گیا ہماری زندگی کے سب اصول ہی بدل گیا فضائے سازگار سے نہ تھی غرض بہار سے ببول کی طرح تھا میں کہیں بھی پھول پھل گیا ہزار ہو کسی سے عشق لاکھ ہوں عقیدتیں مگر کسی کے آستاں پہ کون سر کے بل گیا بھلا یہ میری تشنگی نہ اور کیوں بھڑک اٹھے کہ آیا میرے ہاتھ میں تو جام ہی پگھل گیا پہنچ چکا تھا میں بہت قریب اپنے خواب کے مگر میں سوچتا رہا رقیب چال چل گیا میں جس کے انتظار میں تھا وہ کہیں وہی نہ ہو نظر بچا کے جو ابھی قریب سے نکل گیا ٹپک رہی تھی امبرؔ اس کی شکل سے فرشتگی مگر وہ سارے شہر کو بری طرح سے چھل گیا
hamaare haal se ghabraa ke mat kinaaraa kar
ہمارے حال سے گھبرا کے مت کنارا کر تو چارہ گر ہے اگر واقعی تو چارہ کر کہیں خوشی سے مری دھڑکنیں نہ تھم جائیں تو مجھ کو اتنی محبت سے مت پکارا کر مسرتیں ترے گھر سے کبھی نہ روٹھیں گی ذرا غریب کے بچوں کو بھی دلارا کر تعلقات میں اپنی ہی ضد نہیں چلتی تو دوستوں کی بھی خوشیاں کبھی گوارا کر جنوں سے کام لیا جس نے پا گیا وہ مراد تو گھر میں بیٹھ کر اندازۂ خسارہ کر لیاقتیں تو ہمیشہ ادب سکھاتی ہیں بڑوں کے سامنے مت شیخیاں بگھارا کر تو چاہتا ہے اگر صبر و شکر کی دولت فقیر لوگوں کی صحبت میں دن گزارا کر
pareshaan kyon na ho jaaun kisi paagal ki surat
پریشاں کیوں نہ ہو جاؤں کسی پاگل کی صورت نظر آتی ہے مجھ کو آنے والے کل کی صورت سنا تھا عشق کا رستہ بڑا کانٹوں بھرا ہے میں سچ کہتا ہوں مجھ کو تو لگا مخمل کی صورت رگ و پے میں نہ جانے کون آ کر بس گیا ہے مہکتی ہیں مری تنہائیاں صندل کی صورت محبت کا حکومت کا کہ دولت کا نشہ ہو بنا دیتا ہے یہ انسان کو پاگل کی صورت تعفن کا تو سارا شہر عادی ہو چکا ہے مہک کر کیا کریں گے ہم بہت صندل کی صورت مرے جوش نمو سے تم ابھی واقف نہیں ہو پنپ سکتا ہوں دیواروں سے میں پیپل کی صورت میں اپنے ذوق کو بیدار رکھوں کیسے عنبرؔ بہت دن ہو گئے دیکھے بھری بوتل کی صورت
sach bolne vaale ki jaan khatre mein hai
سچ بولنے والے کی جاں خطرے میں ہے قاتل نہیں منصف یہاں خطرے میں ہے ہر ذرہ جس کے دم سے ہے مہکا ہوا وہ خوشبوؤں کا کارواں خطرے میں ہے جا کوئی مٹی کا دیا گھر میں جلا تیری خیالی کہکشاں خطرے میں ہے ہونا تو تھا گہوارۂ امن و اماں تیرے سبب لیکن جہاں خطرے میں ہے اب شعبدہ بازی نہیں چل پائے گی مرشد تمہارا آستاں خطرے میں ہے ہر چند اسے خطرے کا اندازہ نہیں ہر شخص لیکن بے گماں خطرے میں ہے اپنے لیے جائے اماں ڈھونڈے کہاں جو دوستوں کے درمیاں خطرے میں ہے
kisi rivaaj kisi rasm ke qafas mein nahin ham
کسی رواج کسی رسم کے قفس میں نہیں ہم تمہاری طرح زمانے کی دسترس میں نہیں ہم انا کے غار میں جز ظلمتوں کے کچھ نہیں ہوتا خبر یہ رکھتے ہوئے بھی خود اپنے بس میں نہیں ہم تغیرات زمانہ سے سب ہوئے متأثر ہماری راہ وہی ہے کہ پیش و پس میں نہیں ہم قدم قدم پہ یہاں خیریت ہیں پوچھنے والے خوشا فریب سمجھتے ہیں خار و خس میں نہیں ہم
ye ehsaas behad khajil kar rahaa hai
یہ احساس بے حد خجل کر رہا ہے کرم مجھ پر اک سنگ دل کر رہا ہے بھروسہ ہے بے حد تبھی یار میرا مجھے اپنے غم منتقل کر رہا ہے کسی اور میں ہے کہاں اتنی جرأت میں وہ کر رہا ہوں جو دل کر رہا ہے بڑے سرد و گرم آئے حالات لیکن مرا چہرہ ہر رت میں کھل کر رہا ہے تجھے اے مری زندگی ہے خبر کیا تعاقب کوئی مستقل کر رہا ہے کوئی رائے اس پر کروں کیسے قائم ہمیشہ جو ہونٹوں کو سل کر رہا ہے مجھے بھیج کر تحفۂ گل وہ امبرؔ عجب ڈھنگ سے مشتعل کر رہا ہے





