
Khurshid Sahar
Khurshid Sahar
Khurshid Sahar
Ghazalغزل
طے ہو سکا نہ فاصلہ لمبی اڑان سے میں ڈھیر ہو کے رہ گیا آخر تکان سے اس بے گنہ کی چیخ نے کیا کچھ نہیں کہا پر لوگ چھپ کے دیکھ رہے تھے مکان سے طوفان صد زوال سے کشتی بچایئے خطرہ نہ ٹلنے والا ہے یہ بادبان سے رشتوں کی بھیڑ بھاڑ سے وہ بھی الگ ہوا میں بھی نجات پا گیا وہم و گمان سے جی چاہتا ہے ساری تھکن اوڑھ لوں سحرؔ آخر میں اور کتنا لڑوں جسم و جان سے
tai ho sakaa na faasla lambi uDaan se
بس یہ ہوا کہ رشتوں کے سب ہاتھ کٹ گئے ہم لوگ اپنے آپ ہی آپس میں بٹ گئے آثار ممکنات تھے جتنے وہ گھٹ گئے سورج نکل کے آیا تو کہرے بھی چھٹ گئے یہ بزدلی تھی اپنی کہ کچھ بھی نہیں کہا ہونے دیا جو ہونا تھا رستے سے ہٹ گئے ان سے تو جا کے ملنا بھی دشوار ہو گیا مصروفیت کے نام پہ ہم بھی سمٹ گئے ہم کیا کہیں کہ کیسے حماقت یہ ہو گئی جو تھا سبق بھلانے کا اس کو بھی رٹ گئے دیوار و در سے اب بھی رفاقت وہی رہی تنہائیوں میں آئے تو ان سے لپٹ گئے خورشیدؔ اس پہ سوچئے کس کا قصور ہے آسودگی کے لمحے بھی آ کر پلٹ گئے
bas ye huaa ki rishton ke sab haath kaT gae
رگوں میں زہر کا نشتر چبھو دیا میں نے نہ راس آیا جو ہنسنا تو رو دیا میں نے کہیں پہ کوئی مرا عکس ہی نہیں ملتا کس انتشار میں خود کو ڈبو دیا میں نے تم اپنے خواب کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لینا متاع جاں کی تمنا تو کھو دیا میں نے وہ روز میری انا کو ذلیل کرتا تھا اسے بھی اپنے لہو میں ڈبو دیا میں نے تمہارے نام جو دل کے ورق پہ روشن تھا وہ ایک حرف عقیدت بھی دھو دیا میں نے
ragon mein zahr kaa nashtar chubho diyaa main ne
چہرے دھواں دھواں ہیں یہ آثار دیکھ کر آئینۂ خلوص شرربار دیکھ کر پھر کوئی کچھ نہ بول سکا کچھ نہ کر سکا اس بے زباں کی جرأت اظہار دیکھ کر کچھ اور تیز ہو گئی لمحوں کی سخت دھوپ ٹھہرے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر رستے میں کوئی موڑ نہ کوہ گراں ملا میں لوٹ آیا راہ کو ہموار دیکھ کر وہ منظر شکستہ کہ دل ڈوبنے لگا آنکھیں لرز گئیں پس دیوار دیکھ کر
chehre dhuaan dhuaan hain ye aasaar dekh kar
لمحوں کی گھٹن خوف کا طوفان بہت ہے میری ہی طرح وقت پریشان بہت ہے ہم جس کے لیے شہر سکوں چھوڑ کے آئے وہ دشت جنوں خیز بھی سنسان بہت ہے مجھ سے مری منزل کا پتہ پوچھنے والو ہر راستہ میرے لیے انجان بہت ہے ہر موڑ پہ اک کوہ گراں بن کے کھڑے ہیں ٹوٹے ہوئے لوگوں میں ابھی شان بہت ہے آباد تھے جس میں تری یاروں کے قبیلے وہ قریۂ جاں ان دنوں ویران بہت ہے اے دوستو دکھ درد کے قصے نہ سناؤ خورشیدؔ سحر آج پریشان بہت ہے
lamhon ki ghuTan khauf kaa tufaan bahut hai





