SHAWORDS
Khushboo Saxena

Khushboo Saxena

Khushboo Saxena

Khushboo Saxena

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

dil ko patthar banaa ke dekhte hain

دل کو پتھر بنا کے دیکھتے ہیں اس سے نظریں چرا کے دیکھتے ہیں دل کو تسکین کی ضرورت ہے درد کو گنگنا کے دیکھتے ہیں کوئی آئے نہ آئے اس سے کیا آج گھر کو سجا کے دیکھتے ہیں جاگتا ہے کہ سو رہا ہے وہ اس کے خوابوں میں جا کے دیکھتے ہیں اس نے کیا لکھ دیا ہے آنکھوں میں آئینہ پاس لا کے دیکھتے ہیں پھر نیا درد چاہتا ہے یہ دل اس کی باتوں میں آ کے دیکھتے ہیں

غزل · Ghazal

aankhon mein ibaarat hai aur dil mein kahaani hai

آنکھوں میں عبارت ہے اور دل میں کہانی ہے آ جائے اگر وہ تو اس کو ہی سنانی ہے یہ جتنے مناظر ہیں بینائی سے باہر ہیں آنکھوں میں ابھی کوئی تصویر پرانی ہے اس چاند کا پانی میں بس عکس اترنا ہے اک چاند ہے آنکھوں میں اور جھیل میں پانی ہے احسان اٹھانا ہے یادوں کے اجالوں کا سورج ہے سمندر میں اور رات بتانی ہے کچھ کام نہیں تم کو کچھ کام نہیں ہم کو بیٹھے رہو بس یوں ہی تصویر بنانی ہے

غزل · Ghazal

aarzu hai bahut kinaare ki

آرزو ہے بہت کنارے کی دیر ہے بس تیرے اشارے کی وہ یہاں آئے اور چلے بھی گئے کیا ضرورت تھی نام چارے کی اے ہواؤ ادھر نہ لے جاؤ میں لہر ہوں اسی کنارے کی چاند کا نام دیجیے نہ مجھے صرف پرچھائیں ہوں ستارے کی زندگی کیا ہے کچھ نہیں ہے بس ایک تصویر ہے شرارے کی میری حالت بھی آج ایسی ہے جیسی گردش میں اک ستارے کی

غزل · Ghazal

aankhon ki takraar agar ho jaae to

آنکھوں کی تکرار اگر ہو جائے تو دل پر دل کا وار اگر ہو جائے تو میں تو اس کی پریم پجارن ہوں لیکن اس کو مجھ سے پیار اگر ہو جائے تو دنیا داری ساری دل کی بدولت ہے سوچو دل بیمار اگر ہو جائے تو دروازے بن جاتے ہیں دیواروں میں دروازہ دیوار اگر ہو جائے تو مانا اپنے ہونٹوں کو سی لو گے تم چہرہ ہی اخبار اگر ہو جائے تو گھر سے باہر جا کر جشن مناؤ گے گھر میں ہی تیوہار اگر ہو جائے تو

غزل · Ghazal

khushbu hamaare pyaar ki us tak pahunch gai

خوشبو ہمارے پیار کی اس تک پہنچ گئی تصویر اعتبار کی اس تک پہنچ گئی آواز دے رہا تھا کوئی دور سے مجھے تنہائی انتظار کی اس تک پہنچ گئی کل شام ہی تو اس سے ملی تھی مری نظر شدت مرے خمار کی اس تک پہنچ گئی وہ مجھ کو چاہتا ہے مجھے تب پتہ چلا چابی جب اختیار کی اس تک پہنچ گئی پاگل ہوا نے حال سب اس کو بتا دیا یعنی خبر بہار کی اس تک پہنچ گئی

غزل · Ghazal

ai mere haath ke kangan khanak aahista aahista

اے میرے ہاتھ کے کنگن کھنک آہستہ آہستہ دھڑک اے دل دھڑک لیکن دھڑک آہستہ آہستہ مری آنکھوں میں چبھتی ہے زیادہ روشنی ہو تو اے جگنو سن دمک لیکن دمک آہستہ آہستہ زمانے بعد آیا ہے کسی کا عکس آنکھوں میں اے شاخ گل مہک لیکن مہک آہستہ آہستہ کبھی ضد ہی نہیں کرتی کوئی حسرت مرے دل کی مچلتی ہے مگر من کی للک آہستہ آہستہ بھروسہ کیجئے اس پر اسی کی مہربانی سے چلی آتی ہے چہرے پر چمک آہستہ آہستہ یہ تتلی پھول پر بیٹھی ہے تو بیٹھی بھی رہنے دے ہوا پلکیں جھپک لیکن جھپک آہستہ آہستہ

Similar Poets