Khwaja Mahmood
Khwaja Mahmood
Khwaja Mahmood
Ghazalغزل
ہم خدائی کا دعویٰ تو کرتے نہیں بندگی پر بھی پورے اترتے نہیں یوں تو قائم ہیں ایماں پہ اپنے مگر دل کے وہم و گماں سے مکرتے نہیں جزو حق ہیں نہیں ہم کسی کے مطیع خود پہ نازاں ہیں باطل سے ڈرتے نہیں اپنی خود اعتمادی کا عالم ہے یہ ٹوٹ جانے پہ بھی ہم بکھرتے نہیں دل میں جب تک نہ ہو اک کسک درد کی آدمیت کے جوہر نکھرتے نہیں ہے نہ دنیا ہی اپنی نہ اپنا خدا بے کسی کے یہ دن اب گزرتے نہیں
ham khudaai kaa daavaa to karte nahin
ہم ہر قدم پہ سوچ کا رخ موڑتے رہے کتنے صنم بناتے رہے توڑتے رہے ہلچل جو دل میں تھی وہ نہ لفظوں میں ڈھل سکی رشتے زبان و دل کے بہت جوڑتے رہے ابھرا کئے شکوک نئے دل میں ہر گھڑی ہر دم نیا شگوفہ کوئی چھوڑتے رہے خود میں تھے ایسے دہر سے نا آشنا رہے روشن حقیقتوں سے بھی منہ موڑتے رہے پرتو تھا اک جمال کا آیا گزر گیا سایہ تھا جس کے پیچھے سدا دوڑتے رہے اب تک جنون عشق کی ہیں سر بلندیاں ناحق خرد کے نام پہ سر پھوڑتے رہے
ham har qadam pe soch kaa rukh moDte rahe





