Khwaja Rabbani
Khwaja Rabbani
Khwaja Rabbani
Ghazalغزل
لوگ اس ڈھب سے قصیدے میں اتر باندھتے ہیں صاحب صدر کے عیبوں کو ہنر باندھتے ہیں ہم ترے شہر کا جب عزم سفر باندھتے ہیں عادتاً کاندھوں پہ اپنے کئی سر باندھتے ہیں سوکھی شاخوں پہ نئے برگ و ثمر باندھتے ہیں قافیہ جب بھی نیا اہل ہنر باندھتے ہیں ان منڈیروں کے چراغوں کی عجب قسمت ہے جس میں احباب ہواؤں کا گزر باندھتے ہیں میں اسے لے کے کھڑا ہوں تو نہیں کوئی حریف کس کے ہونے کا فسوں شعبدہ گر باندھتے ہیں وہ جو واقف نہیں تہذیب زباں دانی سے اپنی دستار میں اب وہ بھی گہر باندھتے ہیں اک غزل ایسی کہ کاغذ کو بھگو دیتی ہے اس میں ہم قافیۂ دیدۂ تر باندھتے ہیں ان سے ہشیار نئی طرز کے جادوگر ہیں کس صفائی سے یہ لوگوں کی نظر باندھتے ہیں ہم ہیں معذور نظر، پل تری تعریفوں کے آئنہ خانے کے ارباب مگر باندھتے ہیں
log is Dhab se qaside mein utar baandhte hain
شجاعت کی مثالیں قبر کے پتھر میں رکھی ہیں ہماری ساری شمشیریں عجائب گھر میں رکھی ہیں ہوا کی دشمنی سے حوصلے ٹوٹے نہیں اس کے اڑانیں تو پرندے کے شکستہ پر میں رکھی ہیں جسے چاہے دکھاتا ہے جسے چاہے مٹاتا ہے کہ تصویریں سبھی اب دست شیشہ گر میں رکھی ہیں چراغوں کے محلے میں بہت تیزی سے چلتی ہے یہ کیسی وحشتیں یا رب ہوا کے سر میں رکھی ہیں ہمارے بعد آنے والوں کو کوئی تو سمجھائے گئے وقتوں کی تاریخیں ہر اک پتھر میں رکھی ہیں گلوں سے قربتیں ثابت فقط خوشبو سے ہوتی ہیں قبائیں تو صبا کی قبضۂ صرصر میں رکھی ہیں ہم اپنا ساز و ساماں لے تو آئے ہیں نئے گھر میں مگر کچھ دستکیں اب بھی پرانے گھر میں رکھی ہیں وہ راہ وصل کہ پیکر نہیں بینائی چلتی تھی مری آنکھیں ترے دیدار کے منظر میں رکھی ہیں
shujaaat ki misaalein qabr ke patthar mein rakkhi hain
حکومت ہے نہ شوکت ہے نہ عزت ہے نہ دولت ہے ہمارے پاس اب لے دے کے باقی بس ثقافت ہے گنے جاتے ہیں جو دہلیز کے بجھتے چراغوں میں انہیں ایوان کی محراب میں جلنے کی عادت ہے چلو خیرات نہ ملتی کوئی کھڑکی ہی کھل جاتی فقیروں کو محلے سے بس اتنی سی شکایت ہے بھرم دونوں کا قائم ہے ادائے بے نیازی سے زمانہ پوچھتا کب ہے ہماری کیا ضرورت ہے کسی منزل پہ ہم کو مستقل رہنے نہیں دیتا نہ جانے وقت کو ہم بے گھروں سے کیا شکایت ہے زباں بندی تو پہلے تھی بحکم صاحب عالم نگاہوں کو بھی اب خاموش رہنے کی ہدایت ہے
hukumat hai na shaukat hai na izzat hai na daulat hai
یہ کیسا چھیر پڑا کاروبار میں اب کے سپاہی آنے لگے اقتدار میں اب کے ہوا چراغ جلانے کی بات کرتی تھی ہمیں بھی دیر لگی اعتبار میں اب کے بطور دست طلب جو اٹھائے جاتے رہے وہ ہاتھ آئے نہیں ہیں شمار میں اب کے تھے جس کی جیت کے حامی نہ جس کے کار گزار ہماری ہار ہوئی اس کی ہار میں اب کے نوید صبح نہ آئی تو سب نے ڈھونڈا ہے وہی خلوص ترے شب گزار میں اب کے ترے خیال کی پرچھائیاں مہکتی تھیں عجیب رنگ رہا انتظار میں اب کے ندی بھی جیسے رضامند تھی سمندر سے کوئی صدا نہ ہوئی آبشار میں اب کے کل اس نے بات بھی کی مسکرا کے دیکھا ابھی یہ کیسا فرق کفایت شعار میں اب کے ڈرا رہے تھے جو آسیب گھر میں آنے لگے بہت شگاف پڑے ہیں حصار میں اب کے متاع صبر و شکیبائی ساتھ دیتی رہی نہ دل نہ درد رہا اختیار میں اب کے
ye kaisaa chhir paDaa kaarobaar mein ab ke





