Khwaja Saeeduddin Nawab
Khwaja Saeeduddin Nawab
Khwaja Saeeduddin Nawab
Ghazalغزل
vo baat baat mein aise nishaan chhoD gayaa
وہ بات بات میں ایسے نشان چھوڑ گیا سلگتے دل کو چتا کے سمان چھوڑ گیا نہ جانے کون سی دھن میں تھا قاتلوں کا ہجوم تڑپتے جسموں میں تھوڑی سی جان چھوڑ گیا جسے میں اپنے مسائل کا حل سمجھتا تھا وہ جب گیا تو بہت امتحان چھوڑ گیا ہمارا راز تری بزم تک گیا کیسے ہے کون جو پس دیوار کان چھوڑ گیا وہ آج تک ہے مہاجر کے نام سے بدنام جو شخص طیش میں ہندوستان چھوڑ گیا شکایتیں بھی کریں ہم نوابؔ تو کیسے وہ لفظ چھین کے منہ میں زبان چھوڑ گیا
paDhaa hai ham ne sabaq har ghaDi sadaaqat kaa
پڑھا ہے ہم نے سبق ہر گھڑی صداقت کا اسی لیے تو یہ ہم پر اثر ہے رحمت کا میں سچ کو جھوٹ کی بوتل میں بند کر لوں گا مرے گلے میں بھی تعویذ ہے سیاست کا مری نگاہ بھلا کیوں نہ ہو مقدس تر میں روز کرتا ہوں دیدار اپنی جنت کا میں بچ گیا ہوں مرا نام غازیوں میں لکھو ارادہ کر کے تو نکلا تھا میں شہادت کا جبین شوق کے سجدوں کا لطف یا اللہ وہ مرحلہ بھی عجب تھا تری رفاقت کا ابھی تلک ہے تخیل میں نور کی بارش خیال آیا تھا اک دن تمہاری مدحت کا لو آج وقت کی ٹھوکر میں آ گئے ہیں نوابؔ نشہ تھا جن کے دماغوں میں بادشاہت کا
kabhi nafrat ke lahje se mohabbat kaanp jaati hai
کبھی نفرت کے لہجے سے محبت کانپ جاتی ہے مخالف کوئی اپنا ہو تو ہمت کانپ جاتی ہے سنا ہے قاتلوں کے خوف سے منصف لرزتے ہیں سزا ان کو سنانے کو عدالت کانپ جاتی ہے بہادر باغیوں کے حوصلوں سے کچھ نہیں ہوتا اگر سردار بزدل ہو بغاوت کانپ جاتی ہے ہمارے حوصلوں کو تو نظر انداز مت کرنا یہ وہ بازو ہے جس سے بادشاہت کانپ جاتی ہے ہوس کا زور ہوتا ہے امیروں کے مکانوں میں غریب وقت کی ہر اک ضرورت کانپ جاتی ہے نوابؔ وقت ہوں لیکن مری خستہ حویلی ہے کبھی دیوار ہلتی ہے کبھی چھت کانپ جاتی ہے





