
Kiran Yadav
Kiran Yadav
Kiran Yadav
Ghazalغزل
kali khil uThti hai dil ki tumhaaraa naam aate hi
کلی کھل اٹھتی ہے دل کی تمہارا نام آتے ہی تمہاری یاد میں کھو جاتی ہوں میں شام آتے ہی بھلے کتنا ہی مرجھایا ہوا ہو میرا یہ چہرہ بدل جاتی ہے رنگت ان کا اک پیغام آتے ہی ہر اک الزام جن کے سر کا اپنے سر لیا میں نے وہی منہ پھیر بیٹھے میرے سر الزام آتے ہی ہمارا ٹھیک ہونا اب ہمیں ممکن نہیں لگتا بگڑ اٹھتی ہے پھر حالت ذرا آرام آتے ہی کرنؔ بے کار تو اس کے لیے آنسو بہاتی ہے جو بالکل غیر بن جاتا ہے تیرا نام آتے ہی
ishq ke rog ki davaa kyaa hai
عشق کے روگ کی دوا کیا ہے جو نہ کر دے اثر دعا کیا ہے اس نے اوروں سے سن لیا ہوگا میرے بارے میں جانتا کیا ہے دل دکھانے لگیں جو دونوں کا ایسی باتوں سے فائدہ کیا ہے تیرے دل کی تجھے خبر ہوگی میرے دل میں ترے سوا کیا ہے صرف اتنا وہ ہم کو بتلا دیں ہم سے ناراضگی بھلا کیا ہے
jine-marne kaa aasraa ho jaa
جینے مرنے کا آسرا ہو جا تو مرے درد کی دوا ہو جا میں تری جستجو میں نکلی ہوں اک مسافر کا راستا ہو جا یا مرا ساتھ دے مصیبت میں یا اسی وقت تو جدا ہو جا ہے اگر راستے کا علم تجھے گھر میں مت بیٹھ رہنما ہو جا کسی کمزور کو سہارا دے کسی مجبور کی سدا ہو جا تو اگر فرض ہے تو پورا ہو تو اگر قرض ہے ادا ہو جا میں کرنؔ ہوں تری امیدوں کی عشق میں میرے مبتلا ہو جا
badalte hain yahaan manzar safar ke
بدلتے ہیں یہاں منظر سفر کے کہاں ہوتے ہیں ساتھی عمر بھر کے کسی کے ہجر سے چھپتے چھپاتے ہم آخر ہو گئے دیوار و در کے ہوائیں سہمی سہمی آ رہی ہیں عجب حالات ہیں کچھ اب تو گھر کے کبھی جو آپ کی بانہوں میں گزرے وہ موسم تھے وفا کی رہگزر کے مری آنکھوں میں ساون جھومتے ہیں کبھی دیکھو نظارے تم ادھر کے نہیں جچتا ہے اب کوئی نظر میں کرنؔ نے دیکھے وہ جادو نظر کے
phuul patthar mein khil uThaa hai kyaa
پھول پتھر میں کھل اٹھا ہے کیا پیار مجھ سے اسے ہوا ہے کیا اپنی ضد سے وہ کچھ ہٹا ہے کیا میرے بارے میں کچھ کہا ہے کیا اس سے پوچھوں تو کس طرح پوچھوں وہ مجھے چاہنے لگا ہے کیا بار بار آ رہی ہے کانوں میں زندگی یہ تری سدا ہے کیا پڑھ رہے ہو کتاب کی صورت میرے چہرے پہ کچھ لکھا ہے کیا ایسا لگتا ہے کچھ سنا میں نے آپ نے مجھ سے کچھ کہا ہے کیا مجھ کو کب سے ہے جستجو اپنی میں کہاں ہوں تمہیں پتہ ہے کیا
khudaa kaa ishaara hai donon taraf
خدا کا اشارہ ہے دونوں طرف دلوں نے پکارا ہے دونوں طرف جدھر دیکھیے ریت ہی ریت ہے ندی کا کنارا ہے دونوں طرف یہاں چاہتیں ہیں وہاں نفرتیں عجب ہی نظارا ہے دونوں طرف کسی کو کسی سے شکایت نہیں سبھی کچھ گوارہ ہے دونوں طرف کرنؔ پریت یا ریت میں اک چنو یہ کیوں دل تمہارا ہے دونوں طرف





