Kirpal Singh Bedar
داستان شباب کیا کہئے نت نیا انقلاب کیا کہئے جو نظر ہی نظر میں ہوتے ہیں وہ سوال و جواب کیا کہئے اک نفس ضبط اک نفس فریاد زندگی کا حساب کیا کہئے دیکھتے بھی ہیں دیکھتے بھی نہیں اس ادا کا جواب کیا کہئے رنگ رخ اور بھی چمک اٹھا ان کی شان عتاب کیا کہئے آج کل میں گزر گئے برسوں آج کل کا حساب کیا کہئے ان پہ آخر نگاہ جا ٹھہری ہائے یہ انتخاب کیا کہئے زندگی اور عاشقی بیدارؔ یہ دوگونہ عذاب کیا کہئے
daastaan-e-shabaab kyaa kahiye