SHAWORDS
Kiswar Kolari

Kiswar Kolari

Kiswar Kolari

Kiswar Kolari

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

خدا کے گھر میں خدا کے سوا نہ تھا کچھ بھی مری دعا کے لئے راستہ نہ تھا کچھ بھی مرے خلاف زمانے کو وہ نہ کر پایا مری برائی میں شاید برا نہ تھا کچھ بھی ملا تھا وہ مجھے کل شب بہت ہی عجلت میں میں سوچتا ہوں مجھے سوچنا نہ تھا کچھ بھی تمام عمر میں کرتا رہا تری تقلید یہی خطا ہے کہ میں جانتا نہ تھا کچھ بھی وہ ایسے وقت مرا ساتھ دینے آیا تھا وہ جب کسی بھی طرح کام کا نہ تھا کچھ بھی نہ کچھ رہے گا مرے بعد اس جگہ کشورؔ کہ مجھ سے پہلے کبھی اس جگہ نہ تھا کچھ بھی

khudaa ke ghar mein khudaa ke sivaa na thaa kuchh bhi

غزل · Ghazal

فلک میں بیج بوتا ہوں مگر اگتا نہیں کچھ بھی میں جیسا سوچتا ہوں اس طرح ہوتا نہیں کچھ بھی میں آنکھیں بند کر کے زندگی اپنی گزاروں گا بہت کچھ سامنے موجود ہے اچھا نہیں کچھ بھی میں دن بھر کیا کیا کیوں یاد رکھوں اس سے کیا حاصل میں کل کیا کرنے والا ہوں ابھی سوچا نہیں کچھ بھی سیاست فلسفے تنظیم وعدے کھوکھلے سارے یہاں کیا کچھ ہوا ہے اور پھر ہوگا نہیں کچھ بھی دکھاتا ہے سبھی عیب و ہنر اور بھول جاتا ہے اک آئینہ ہے جو دل میں کبھی رکھتا نہیں کچھ بھی یہی کشورؔ ہے بس عمر خضر کا مستحق یا رب تری دنیا میں اس نے آج تک دیکھا نہیں کچھ بھی

falak mein biij botaa huun magar ugtaa nahin kuchh bhi

غزل · Ghazal

جدھر ہوائیں چلیں اس طرف چلا میں بھی زمانہ ساز تھا موسم شناس تھا میں بھی تمام لوگ مجھے دیکھتے رہے لیکن تمام لوگوں کو بس دیکھتا رہا میں بھی مجھے فریب نہ دو دل فریب باتوں سے زمانہ ہو گیا مجھ کو سنبھل گیا میں بھی وہ آندھیوں میں اندھیروں میں کھو گیا ہے کہیں چراغ لے کے اسے ڈھونڈھتا رہا میں بھی

jidhar havaaein chalin us taraf chalaa main bhi

غزل · Ghazal

میں جہاں ہوں وہیں ہے گھر میرا کتنا آسان ہے سفر میرا پھل لگے دوست بن گئے دشمن میرا دشمن بنا شجر میرا تم کو پتھر میں ڈھال سکتا ہوں تم نے دیکھا نہیں ہنر میرا میرا رہزن تھا میرا قاتل تھا میرا ہمسایہ ہم سفر میرا شیش محلوں میں زلزلے آئے اور سلامت ہے خستہ گھر میرا میں ہوں خانہ بدوش اے کشورؔ یہ تعارف ہے مختصر میرا

main jahaan huun vahin hai ghar meraa

غزل · Ghazal

دل جلاؤ نہ میاں رہنے دو پھیل جائے گا دھواں رہنے دو بے وجہ تم نہ اچھالو مجھ کو یوں ہی بے نام و نشاں رہنے دو میں نے کی تاج محل کی تعمیر کون ہے شاہ جہاں رہنے دو تازہ چنگاریاں بھر دو اس میں ذہن کو شعلہ فشاں رہنے دو آستینوں میں چھپے ہیں خنجر دوست ہیں دشمن جاں رہنے دو تم کرشمے نہ دکھاؤ کشورؔ خوب واقف ہے جہاں رہنے دو

dil jalaao na miyaan rahne do

غزل · Ghazal

مرے دوست بھی عجب ہیں جو فریب کھا کے روئے مجھے آزمانے نکلے مجھے آزما کے روئے یہ تو جھوٹ ہے سراسر کہ وہ پاس آ کے روئے یہ مگر غلط نہیں ہے کہ وہ دور جا کے روئے ہمیں قتل کرنے والے کا پتہ تھا دوستوں کو اسی خوش نما بلا سے سبھی دل لگا کے روئے میری قبر کے سرہانے کوئی کاش آ کے کہہ دے کہ مجھے مٹانے والے بھی مجھے مٹا کے روئے تھے سبھی دھوئیں کی زد میں سبھی اشک بار نکلے مرا گھر جلانے والے مرا گھر جلا کے روئے ہمیں اپنے غم کا کشورؔ کوئی غم نہیں ہے اتنا مگر اس کا غم بہت ہے کہ انہیں رلا کے روئے

mire dost bhi ajab hain jo fareb khaa ke roe

Similar Poets